حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 89
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 89 اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ واقع میں پنگھوڑے میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ ہم سے بہت چھوٹے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو تو آپ کی عمر ساٹھ برس کے قریب تھی بڑھاپا شروع ہو چکا تھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کفار کی طرف سے ایک رئیس آپ سے گفتگو کر نے کیلئے آیا تو وہ بار بار کہتا اے بچے میں تجھے کہتا ہوں کہ میری بات مان لو حالانکہ اس وقت آپ ساٹھ سال کے تھے۔مگر پھر بھی وہ آپ کو بچہ ہی کہتا تھا۔کیونکہ خود اسی سال کا تھا۔تو قوم کے بڑے لوگوں کا یہ کہنا کہ اس سے ہم کیا گفتگو کریں یہ تو بھی کل کا بچہ ہے کوئی قابل تعجب بات نہیں۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی جب سخت غصہ میں ہوا کرتے تو انجمن کے ممبروں سے کہا کرتے تھے کہ تم کل کے بچے دودھ پیتے بچے میرے سامنے بات کرتے ہواب اگر کوئی اس بات کو سن کر یہ کہنا شروع کر دیتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چودہ ممبران پر مشتمل ایک انجمن بنائی تھی جس میں صرف ایک جوان شخص تھا باقی سب دودھ پیتے بچے تھے تو یہ کیسی ہنسی کی بات ہوگی۔اسی طرح یہودی کہتے تھے کہ یہ جو ہمارے سامنے پوتڑوں میں کھیلا ہوا ہے کیا ہم اس سے بات کریں گویا ان الفاظ میں وہ اپنے علم وفضل اور اپنی عمر کی بڑائی پر فخر کرتے تھے“ ( تفسیر کبیر سوره مریم از حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۹۵-۱۹۹ ایڈیشن اوّل، ادارۃ المصنفین ، ربوہ پاکستان ) چنانچہ زمانہ مہد میں، جو کہ میں سال تک کا زمانہ ہے، انا جیل میں آپ کی غیر معمولی گفتگو کا ذکر ملتا ہے اول اس وقت جب آپ بارہ سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ یروشلم میں تشریف لائے۔چنانچہ لکھا ہے: ” اور تین روز کے بعد کہ انہوں نے اسے ہیکل میں استادوں کے بیچ میں بیٹھے ان