حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 88 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 88

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 88 بھیگ رہی ہوں۔قرآن کریم نے دو لفظوں میں آپ کی ساری جوانی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔اور ہمیں بتا دیا ہے کہ کوئی چاہے کچھ کہتا پھرے آپ کی جوانی نہایت پاکیزہ تھی۔تَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ وَالكَهْل دوسری بات جس کی طرف قرآن کریم نے توجہ دلائی وہ آپ کا مہد اور کہولت کے زمانہ میں غیر معمولی کلام کرنا ہے۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کو دو زمانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ایک زمانہ مہد سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرا کہل سے اور کہولت کے زمانہ کے متعلق لغاتِ عربیہ تاج العروس صحاح۔اور جو ہری بتارہی ہیں کہ مردوں کا کہل کا زمانہ تھیں سال کے بعد ہوتا ہے اور تفاسير ابن جرير تنوير المقياس حاشيه للقنوى على البيضاوي۔غاية البرهان۔كمالين معالم التنريل جامع البيان۔غرائب القرآن وغیرہ سب کہتے ہیں کہ کہل کا زمانہ میں سال کے بعد ہی ہوتا ہے۔پس ظاہر ہوا کہ پہلے میں سال تک مہد کا زمانہ ہے۔قرآن کریم نے میں مہد کا لفظ یوں استعمال کیا ہے: وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيْدًاه (سورة المدثر: آیت (15) ترجمہ: اور میں نے اس کے لئے بہت سے ترقیات کے سامان پیدا کئے تھے۔لمصل حضرت اصلح الموعود فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محاورہ قرآن میں مہد کے ایک معنی تیاری کے زمانے کے بھی ہیں۔پس مہد کا لفظ محاورہ میں اس زمانہ کیلئے بھی بولا جاتا ہے جو تیاری کا زمانہ ہوا اور تیاری کا زمانہ جوانی کا زمانہ ہوتا ہے کیونکہ اس زمانہ میں انسان آئندہ کے لئے اپنے اندر طاقتیں جمع کرتا ہے۔یہاں بھی جوانی کے زمانہ کیلئے استعارہ مہد کا لفظ بولا گیا ہے اور قوم کے بڑے لوگ چھوٹی عمر کے نوجوانوں کا ذکر انہی الفاظ میں کیا کرتے ہیں۔مگر