حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 81
81 حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - (Jesus in the Quran by Geoffary Parrinder P۔71 printed at Sheldon Press) سیر یانی نام الیسوعہ کے متعلق یہ احتمال ہے کہ جنوبی شام اور عرب کے نسطوری عیسائیوں نے اس کا تلفظ بدل دیا ہے۔اس کا ثبوت جنوبی شام میں ایک خانقاہ ہے جس کا نام ۷۱ ۵ عیسوی تک عیسا نیہ تھا یعنی عیسی کے ماننے والوں کی خانقاہ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے قدیم سریانی لٹریچر کے علماء کے کچھ حوالے بھی حاشیہ میں درج کئے ہیں حالانکہ یہ انکشافات تو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ابتدائی گلیلی عیسائیوں کے وقت سے ہی عیسی نام کی نسبت سے خانقاہ کا نام "عیسانیہ رکھا گیا تھا۔اور نسطوری عیسائیوں نے اسے نہیں بدلا۔کیونکہ نسطوری عیسائیوں کی انجیل میں بدلتی ہوئی صورت الیسوع ہے۔اندرین صورت و حالات بائیبل کے تلفظ کو تبدیل کرنا قرین قیاس بھی نہیں لگتا اور نہ ہی یہ صحیح ہے۔صحیح یہی ہے کہ عرف عام میں حضرت مسیح کا ذاتی نام عیسی تھا۔اس لئے انہوں نے اپنی خانقاہ کا نام بھی عیسا نیہ رکھا تھا یعنی عیسی کے ماننے والوں کا معبد۔☆ اسی طرح تبت کی خانقاہوں سے حضرت مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات ” نوٹوچ کو ملے ہیں۔جو اس نے اپنی کتاب Unknown Life of Jesus میں شائع کردیئے ہیں چنانچہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تبت کے قدیم نوشتوں میں بھی مقدس عیسی کا خطاب موجود ہے۔[The divine child to whom was given the name Issa (4:8)] بھوشیہ پر ان میں راجہ شالبان کو حضرت مسیح نے اپنا نام عیسی مسیح بتایا تھا۔علماء اس نام کی بہت