حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 63
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل - رامہ میں آواز سنائی دی رونا اور بڑا ماتم را خیل اپنے بچوں کو رو رہی ہے اور تسلی قبول نہیں کرتی کہ وہ نہیں ہیں جب ہیر ود ویسی مر گیا تو دیکھو فرشتہ نے مصر میں یوسف کو خواب میں دکھائی دیکر کہا اُٹھ اس بچے اور اس کی ماں کو لیکر اسرائیل کے ملک میں چلا جا کیونکہ جو بچے کے خواہاں تھے وہ مر گئے۔“ ھوسیع نبی کی کتاب میں لکھا ہے: بلایا۔(متی باب ۲ آیت ۱۳ تا ۲۰) ” جب اسرائیل ابھی بچہ ہی تھا میں نے اس سے محبت رکھی اور اپنے بیٹے کو مصر سے ھوسیع باب ۲۸ آیت ایک ) 63 متی نے ھوسیع کے اس بیان کو پیشگوئی سمجھ کر اس کو مسیح پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ توسیع نبی کے بیان میں حقیقتا کوئی پیشگوئی نہیں ہے بلکہ نبی اسرائیل کے مصر سے آنے کا ذکر ہے چنانچہ اس وجہ سے مستی کا یہ سارا بیان ہی مشکوک ہوکر رہ جاتا ہے۔در حقیقت یسوع کا مصر جانا اور واپس آنا اور اسی طرح متی کا پیدائش مسیح علیہ السلام کے وقت بچوں کے قتل عام کا واقعہ بھی فرضی ہے۔کیونکہ لوقا۔یوحنا۔اور مرقس اس واقعہ کے صحیح ہونے کی گواہی نہیں دیتے بلکہ سرے سے ذکر ہی نہیں کرتے بلکہ اس سے غافل ہیں دوسرے اس واقعہ کومتی نے اس لئے بیان کیا ہے تاکہ یرمیاہ نبی کی کتاب باب ۳۱ آیت ۱۵ کی پیشگوئی چسپاں کرے۔حالانکہ یرمیاہ نبی کی کتاب میں نبی اسرائیل کی جلاوطنی کے وقت جو حالات تھے اس کا شاعرانہ نقشہ کھینچا گیا ہے جس کو پیشگوئی سمجھ کر متی کے مصنف نے خوامخواہ اور خلاف واقعہ مسیح کی پیدائش سے منسلک کر دیا ہے۔اور اگر یہ واقعہ حقیقت میں وقوع پذیر ہوتا تو خاصہ مشہور ہوتا۔اور جوزیفس جو اس زمانہ کا مشہور مورخ ہے وہ تو اسے جانتا۔مگر جو زیفس بالکل خاموش ہے پس