حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 261 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 261

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔قرآنی تعلیم نے ہم پر کھول دیا ہے کہ ابن مریم پر یہ سب جھوٹے الزام ہیں۔انجیل میں تثلیث کا نام ونشان نہیں۔ایک عام محاورۃ لفظ ابن اللہ کا جو پہلی کتابوں میں آدم سے لیکر آخر تک ہزاروں لوگوں پر بولا گیا تھا وہی عام لفظ حضرت مسیح کے حق میں انجیل میں آ گیا پھر بات کا بتنگڑ بن گیا۔یہاں تک حضرت مسیح اسی لفظ کی بنیاد پر خدا بھی بن گئے حالانکہ نہ کبھی مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا اور نہ کبھی خودکشی کی خواہش ظاہر کی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ایسا کرتا تو راستبازوں کے دفتر سے اُن کا نام کا ٹا جاتا یہ بھی مشکل سے یقین ہوتا ہے کہ ایسے شرمناک جھوٹ کی بنیاد حواریوں کے خیالات کی برگشتگی نے پیدا کی ہو کیونکہ ان کی نسبت جیسا کہ انجیل میں بیان کیا گیا ہے یہ صیح بھی ہو کہ وہ موٹی عقل کے آدمی اور جلد تر غلطی کھانے والے تھے لیکن ہم اس بات کو قبول نہیں کر سکتے کہ وہ ایک نبی کی صحبت یافتہ ہوکر ایسے بے ہودہ خیالات کی جنس کو اپنی ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے۔مگر انجیل کے حواشی پر نظر غور کرنے سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ساری چالبازیاں حضرت پولوس کی ہے جس نے پولیٹیکل چالبازوں کی طرح عمیق مکروں سے کام لیا۔غرض جس ابن مریم کی قرآن نے ہم کو خبر دی ہے وہ اسی ازلی ابدی ہدایت کا پابند تھا جو ابتدا سے بنی آدم کیلئے مقرر کی گئی ہے۔لہذا اس کی نبوت کیلئے قرآنی ثبوت کافی ہے گوانجیل کی رو سے کتنے ہی شکوک و شبہات اس کی نبوت کے بارے میں پیدا ہوں۔“ والسلام على من اتبع الهدى راقم خاکسار غلام احمد 261 نور القرآن نمبر اصفحه ۴۲-۴۳- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان )