حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 257
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل حرف آخر حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا دعویٰ 257 یہود تین وجودوں کے منتظر تھے۔مسیح ، وہ نبی اور ایلیاء۔ایلیا بصورت یوحنا کے مبعوث ہو چکا تھا اور خود کو حضرت عیسی علیہ السلام نے مسیح قرار دیا ہے جیسا کہ لکھا ہے: عورت نے اس سے کہا میں جانتی ہوں کہ مسیح جو خرسنس کہلاتا ہے۔آنے والا ہے جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتا دے گا۔یسوع نے اس سے کہا میں جو تجھ سے ( یوحنا باب ۴ آیت ۲۶) بول رہا ہوں وہی ہوں۔آپ نے کہیں بھی اپنے آپ کو نبی اور رسول کے علاوہ اور کچھ قرار نہیں دیا۔اور آپ نے اپنے بعد آنے والے ایک مددگار کی بھی پیشگوئی فرمائی ہے لکھا ہے: میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔( یوحنا باب ۱۶ آیات۷ ) اسی طرح آپ کی نبوت کی حقیقت بھی یہی ہے کہ آپ تو رات پر عمل کرانے کیلئے تشریف لائے تھے اور خود بھی اس پر عمل پیرا تھے۔چنانچہ روحانی چلہ کشی اور روحانی آزمائش کے دوران بھی آپ تو رات کے احکامات سے راہنمائی حاصل کرتے رہے آپ نے بالصراحت فرمایا : یہ نہ سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ملے گا جب تک سب کچھ