حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 219
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل کا مقام ایک نبی اور رسول سے بلند قرار نہیں دیتا اور صاف فرماتا ہے: لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ۔ط 219 (سورة المائدة: آیت (۱۸) کہ بے شک ان لوگوں نے کفر کیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے لہذا عیسائی صاحبان کو قرآن مجید کے حوالے سے یہ کہنے کا کوئی حق نہیں کہ مسیح کو روح منہ کہہ کر ذات الہ قرار دیا جائے۔دراصل روح منه کہنے سے فقط یہ مراد ہے کہ مسیح کوئی نا پاک روح نہ تھا بلکہ خدا کی پاک روحوں میں سے ایک روح تھا۔میسیج کو کلمہ اور روح منہ کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہودی مسیح کی بن باپ پیدائش کی وجہ سے ان پر نا پاک ولادت کا الزام لگاتے تھے اور حضرت مریم صدیقہ پر بھی اسی وجہ سے بہتان تراشی کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتایا ہے کہ وہ پیشگوئی کے مطابق پیدا ہوئے تھے اور پاک روح رکھتے تھے۔ناپاک روح نا تھے جیسا کہ یہود کا خیال تھا۔بائیبل میں بھی خدا کی روح کا لفظ نبیوں اور پاک لوگوں کیلئے استعمال ہوا ہے اور انہیں ذات اله نہیں قرار دیا گیا۔پیدائش باب ۴۱ آیت ۳۷ میں ہے کہ بادشاہ مصر نے حضرت یوسف کے متعلق کہا: سو فرعون نے اپنے خادموں سے کہا ہم کو ایسا آدمی جیسا یہ ہے جس میں خدا کی روح ہے مل سکتا ہے؟“ پھر خروج باب ۳۵ آیت ۳۱ میں لکھا ہے بطلی ایل کے متعلق کہ: وو ” دیکھو خداوند نے بطلی ایل بن لاوی کو جو یہوداہ کے قبیلہ میں سے ہے نام لیکر بلایا ہے اور اس نے اسے حکمت اور فہم اور دانش اور ہر طرح کی صنعت کیلئے روح اللہ سے