حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 212 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 212

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 212 کے ایک اور رکن کو یروشلم سے اسکندریہ بھیجا تھا۔یہ مکتوب ۱۹۰۷ء میں امریکن کمپنی شکا گونےAn (Eye Witness (Kissinger Publishing (LLC کے نام سے شائع کیا تھا۔اس میں صلیب کے بعد کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔لکھا ہے کہ مسیح نے کہا: میں یہ نہیں بتا سکتا کہ اب کہاں جاؤں گا کیونکہ میں اس امر کو مخفی رکھنا ضروری سمجھتا ہوں اور میں سفر بھی تنہا ہی کروں گا۔“ اس خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ: مسیح علیہ السلام کو صلیب سے زندہ اتار لیا گیا تھا اور ایسینی طبیب نقودیمس نے آپ کے زخموں کا علاج کیا تھا اور آپ خفیہ طور پر یروشلم سے ہجرت کر گئے۔آگے چل کر لکھا ہے: جب حواریوں نے گھٹنے ٹیکے ہوئے تھے اور ان کے چہرے زمین کی طرف جھکے ہوئے تھے۔یسوع اٹھا اور جلدی سے اس مجمع سے باہر چلا گیا لیکن شہر میں یہ افواہ پھیل گئی که یسوع بادل میں سے ہو کر آسمان پر چلا گیا (غالبا یہ خبر ان لوگوں نے تراشی تھی جو مسیح کے رخصت کے وقت موجود نہ تھے ) یا پہاڑ پر چڑھتے وقت ایسا ہوتا بھی ہے کہ بادل درمیان میں حائل ہو جاتے ہیں۔“ مسیح علیہ السلام کا کفن جرمن سائنس دانوں کی ایک پارٹی نے آٹھ سال تک مسیح کے مزعومہ کفن کے متعلق تحقیق کر کے ۱۹۵۷ء میں دنیا کو اپنی تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کیا ہے اور اس کی پوری تفصیل کرٹ برنا“ کی تصنیف ” اس لیفن میں ملتی ہے اٹلی کے شہر Turin میں یہ کفن موجود ہے جس میں مسیح کو صلیب سے اتارنے کے بعد لپیٹا گیا تھا اس کپڑے پر لگے ہوئے زخموں کے اور خون اور مرہموں