حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 206 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 206

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - نہیں کے باپ کے گناہ کرنے سے بیٹا خود بخود گنہگار قراردے دیا جائے۔206۔۔۔۔جو آدم کی پشت سے ہو وہ گنہگار ہوتا ہے یہ بات عقلاً اور نقلاً دونوں طرح غیر صحیح ہے عقلاً خدا کے عدل کے خلاف ہے اور نقلا یہ کہ لوقا باب ۱ آیت ۶ میں لکھا ہے۔دونوں خدا کے حضور راستباز اور خداوند کے حکموں اور قانونوں پر بے عیب چلنے والے تھے یہ زکریا علیہ السلام اور ان کی بیوی کی تعریف ہے اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں میاں بیوی بے گناہ تھے۔پس یہ کہنا کہ آدم کی نسل سے سب گنہگار ہیں از روئے انجیل غلط ہوا۔کیونکہ زکریا اور ان کی بیوی اولاد آدم تھے۔“ یہ کہنا کہ جو آدم کی پشت سے ہوگا گنہ گار ہوگا اس طرح بھی درست نہیں۔کیونکہ کئی وجود با وجود یکہ وہ نسل آدم سے نہیں مگر گناہ گار ہیں۔مثلاً شیطان۔سانپ تمام دیوتا۔بھوت جنہیں مسیح اور ان کے حواری نکالا کرتے تھے۔کیا یہ سب آدم کی نسل میں سے ہونے کی وجہ سے گناہ گار تھے؟ ظاہر بات ہے کہ نہیں۔یہ کہنا ہے مسیح علیہ السلام بے گناہ تھے مسیح کے اپنے قول سے غلط ٹھہرتا ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا: 66 مجھے نیک مت کہو۔نیک صرف ایک ہے یعنی باپ جو آسمان پر ہے۔۔۔۔یہ کہنا کہ مسح علیہ السلام اس وجہ سے بے گناہ ہیں کہ نسل آدم سے نہ تھے قطعی طور پر غلط ہے کیونکہ: ())۔۔۔آدمی کا وہ گناہ جو بقول عیسائی صاحبان موروثی طور پر اب تک آدم کی نسل میں چلا آتا ہے اس کا اصل ذمہ دار (بمطابق پیدائش باب ۳ آیت اتا۶) آدم نہ تھا بلکہ حوا تھی۔جس نے شیطان کے دھوکے میں آکر آدم کو بہکایا۔پس مسیح بوجہ حوا کی اولاد ہونے کے گنہ گار ٹھہرا۔(ب) دوسرے تو رات میں بھی لکھا ہے: