حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 199 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 199

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 199 یسوع نے کہا تو تو مجھے دیکھ کر ایمان لایا مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے۔تو ما کا یہ قول اس وقت کا ہے جب مسیح علیہ السلام نے صلیب سے بچنے کے بعد اپنے زخم دکھائے اور پہلی پر جہاں کے رومی سپاہی نے بھالا مارا تھا ہاتھ ڈال کر دیکھنے کو کہا تھا چنا نچہ تجب سے تو مانے کہا اے میرے خدا ونداے میرے خدا۔اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ یہ الفاظ تو مانے حضرت مسیح کی خدائی پہ یقین رکھتے ہوئے کہے تھے بلکہ اس سے تو صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ تو ما نے مسیح کو بنفس نفیس صلیبی زخموں سمیت صلیب سے بیچ کر اتر آنے پر تعجب سے اور آسمانی نشان کو پورا ہوتے دیکھ کر اپنے آسمانی خدا کو پکارا اور بہت حیران و ششدر ہوا جیسا کہ یہ عام بات ہے کہ حیرت اور استعجاب کے وقت ہر انسان کے منہ سے ایسے کلمات نکل جایا کرتے ہیں۔اور ویسے بھی جیسا کہ یوحنا باب ۱۰ آیت ۲۹۔۳۰ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے حواری تو رات کے محاورہ کے مطابق آپ کو معزز اور مقرب الی اللہ کے معنوں میں کبھی ایسا کہتے ہوں تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ان کا اس سے ہر گز آپ کو حقیقی الہ کہنا مراد نہیں ہوتا تھا۔ر رومیوں باب ۹ آیت ۵ کو بھی آپ کی خدائی کیلئے پیش کیا جاتا ہے لکھا ہے: اور جسم کی رو سے مسیح بھی اُن ہی میں سے ہوا خدا سب کے اوپر اور ابد تک خدائے محمود ہے آمین۔یہ ترجمہ وہ ہے جو اردو کے نئے عہد نامے میں کیا گیا ہے۔لیکن یہ ترجمہ درست نہیں۔New English Bible میں ، جو ۱۹۶۱ء میں شائع ہوئی Oxford University) (1961) Press ، درست ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے: ک جسم کی رو سے مسیح بھی ان ہی میں سے ہوا۔“ اس کے بعد فقرہ ختم ہے اور فل سٹاپ ہے اور جو کا لفظ حذف ہے۔اور آگے یہ نیا فقرہ لکھا ہے