حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 18 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 18

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل 18 کئے جا سکتے ہیں۔اور جس شخص کی صلب سے آپ تھے ہی نہیں اس کی طرف آپ کو منسوب کرنا ایک کذب بیانی اور کوتاہ اندیشی ہے۔متی کے نسب نامہ میں تو صاف بتایا گیا ہے کہ یہ نسب نامہ یوسف کا ہے جو اس مریم کا شوہر ہوا (بعد میں )۔جس سے یسوع پیدا ہوا تھا جو مسیح کہلاتا تھا۔اور لوقا کے نسب نامہ کے شروع میں لکھا ہے کہ : ” جب یسوع خود تعلیم دینے لگاتو تقریباً ۳۰ برس کا تھا اور (جیسا کہ سمجھا جاتا ہے) یوسف کا بیٹا تھا۔“ (لوقا باب ۳ آیت ۲۳) اور لوقا باب اوّل آیت ۳۴ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ جب فرشتہ نے حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت دی تو آپ نے کہا: یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جبکہ میں کسی مرد کو نہیں جانتی“ اور متی باب ایک آیت ۱۸ تا ۲۱ میں ہے : یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب کہ اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس سے حاملہ پائی گئی۔پس اس کے شوہر یوسف نے جور است باز تھا اور اسے بدنام نہیں کرنا چاہتا تھا اسے چپکے سے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خدا وند کے فرشتے نے اسے خواب میں ظاہر ہو کر کہا کہ اے یوسف ابن داؤد اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو اس کے پیٹ میں ہے وہ روح القدس کی قدرت سے ہے۔“ ابھی جبکہ حضرت مریم اور یوسف کے ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے اور اس سے قبل ہی حضرت عیسی علیہ السلام رحم مادر میں قرار پاچکے تھے اور بائیبل اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔پھر اس حقیقت کے متضاد خیالات کا اظہار کرنا اور اسکی تائید میں نسب نامے پیش کرنا تو چنداں عقل مندی معلوم نہیں ہوتی۔جبکہ انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کو صاف طور پر ” مریم کا بیٹا“ کہا گیا