حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 17
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - اور ابیاہ کے متعلق عہد نامہ قدیم میں تو اریخ باب اول ۱۳ تا ۲۳ لکھا ہے کہ: عمرام کے بیٹے ہارون اور موسیٰ تھے اور ہارون الگ کیا گیا تھا تا کہ اس کے بیٹے ہمیشہ پاک ترین چیزوں کی تقدیس کریں۔“ پھر باب ۲۴ میں لکھا ہے کہ : ” نبی ہارون کے فریق یہ تھے۔آٹھویں آیاہ۔۔۔یہ ان کی خدمت کی ترتیب 17 تھی۔“ عہد نامہ قدیم اور جدید کی ان معلومات کی تطبیق کی جائے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ زکریا آبیاہ کے فریق میں سے تھا۔اور آبیاہ نبی ہارون کے فریق میں سے تھا اور ہارون عمرام کے بیٹے تھے۔لہذ از کریا اور ان کا بیٹا یوحنا یعنی حضرت یحی علیہ السلام آل داود میں سے نہیں تھے بلکہ آل عمران میں سے تھے۔اسی طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ الیصبات کے متعلق بھی لوقا باب ۱ آیت ۵ میں لکھا ہے کہ: زکریا نام کا ایک کا ہن تھا اور اس کی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی اس کا نام الصبات تھا“۔اور یہ الیصبات ہی وہ خاتون تھیں جن کی رشتہ داری کا تعلق حضرت مریم علیہ السلام والدہ حضرت عیسی علیہ السلام سے تھا۔چنانچہ لکھا ہے: والا ہے۔“ مریم کو فرشتہ نے کہا دیکھ تیری رشتہ دار الیصبات کو بھی بڑھاپے میں بیٹا ہونے (لوقا باب اوّل آیت ۳۶) پس در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام جو بن باپ پیدا ہوئے تھے جیسا کہ عہد نامہ جدید نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔صرف اپنی ماں کی نسبت سے ہی کسی خاندان یا نسب نامہ کی طرف منسوب