حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 165
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل۔تو اللہ کی طرف سے تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہوں ، جو ( کلام ) میرے آنے سے پہل نازل ہو چکا ہے یعنی تورات، اس کی پیشگوئیوں کو میں پورا کرتا ہوں اور ایک ایسے رسول کی بھی خبر دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہوگا۔پھر جب وہ رسول دلائل لے کر آ گیا، تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا کھلا فریب ہے۔وَ رَسُوْلًا إِلَى بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ لا 165 (سورة ال عمران : آیت (۵۰) ترجمہ: اور بنی اسرائیل کی طرف رسول ( بنا کر اسے پیغام کے ساتھ بھیجے گا) جَعَلْنَهُ مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَاءِ يْلَه (سورة الزخرف: آیت (۲۰) ترجمہ: اور اس کو بنی اسرائیل کیلئے بطور عبرت کے بنایا تھا۔ما فَا مَنَتْ طَائِفَةٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ : (سورة الصف : آیت (۱۵) ترجمہ: پس بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انکار کر دیا۔وَقَالَ الْمَسِيحُ يَبَنِي إِسْرَاءِ يْلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبِّكُمْ ترجمہ: اور مسیح نے (تو) کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل ! تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا ( بھی ) رب ہے۔(سورۃ المائدة: آیت ۷۳)۔۔۔۔وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ عَنْكَ (سورة المائدة : آيت ا ا ١ ) ترجمہ: اور جبکہ بنی اسرائیل کو ( جو تیرے قتل کا ارادہ رکھتے تھے ) میں نے تجھ سے روکے رکھا۔