حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 16 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 16

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔16 بن باپ بھی تسلیم کرتی ہیں اور آپ کے نسب نامے بھی پیش کرتی ہیں۔جو آپ کے قانونی والد یوسف نجار کے ہیں۔اور صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان نسب ناموں کی رو سے آپ داؤد کی نسل سے تھے۔اور اس طرح سے دو متضاد باتوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نویں چاہتے یہ ہیں کہ کسی نہ کسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام پر وہ قدیم پیشگوئیاں چسپاں کر دیں جنکی بناء پر یہود میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ آنے والا مسیح داؤد کی نسل میں سے ہوگا۔مثال کے طور پر اسی طرح کی ایک کوشش یوحنا کو بھی داؤد کے گھرانے سے ثابت کرنے کی انجیل لوقا میں کی گئی ہے۔اور ایسا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نویسوں کی عام عادت تھی کہ کسی نہ کسی طرح قدیم پیشگوئیوں کو اپنے بزرگوں پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔جیسا کہ لکھا ہے: (جب یوحنا کی پیدائش کے بعد ) زکریا روح القدس سے بھر گیا اور نبوت کی راہ سے کہنے لگا کہ خدا وند اسرائیل کے خدا کی حمد ہو کیونکہ اس نے اپنی امت پر توجہ کر کے اسے چھٹکارا دیا۔اور اپنے خادم داؤد کے گھرانے میں ہمارے لئے نجات کا سینگ نکالا۔( جیسا اس نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کہا تھا جو کہ دنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں ) (لوقا باب اول آیت ۶۷ تا ۷۰ ) حالانکہ لوقا کی انجیل میں ہی یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یوحنا یعنی حضرت یحی علیہ السلام داؤد کی نسل سے نہیں تھے بلکہ لاوی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور عمرام یا عمران کی نسل سے تھے۔چنانچہ لکھا ہے: دو ہیرودیس کے زمانہ میں آبیاہ کے فریق میں سے زکریا نام کا ایک کا ہن تھا۔“ (لوقا باب اول آیت ۵)