حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 145
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 145 حواریوں کے نقطہ نظر کے خلاف عیسائی مذہب کو بدل کر رکھ دیا۔اور یہ صرف مرید بڑھانے کی تگ ودوہ میں مصروف ہو گیا۔چاہے وہ ایمان کے تقاضوں یعنی اعمال صالحہ کو بجا لاتے ہوں یا نہ۔جیسا کہ مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں فریسی کہا کرتے تھے جس کے متعلق مسیح علیہ السلام نے فرمایا: ”اے ریا کار فقیہو ! اور فریسیو! تم پر افسوس کہ ایک مرید کرنے کیلئے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو جاتا ہے تو اسے اپنے سے دو نا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو۔66 اور یہی کام پولوس نے کیا اس منافقت کا ذکر وہ خود یوں کرتا ہے: ( متی باب ۲۳ آیت ۱۵) میں یہودیوں کے لئے یہودی بنا تا کہ یہودیوں کو بھینچ لاؤں۔جو لوگ شریعت کے ماتحت ہیں۔ان کیلئے شریعت کے ماتحت ہوا تاکہ شریعت کے ماتحتوں کو کھینچ لاؤں، اگر چہ وہ خود شریعت کے ماتحت نہ تھا۔بے شرع لوگوں کیلئے بے شرع بنا تا کہ بے شرع لوگوں کو کھینچ لاؤں۔کمزوروں کیلئے کمزور بنا تا کہ کمزوروں کو کھینچ لاؤں۔میں سب آدمیوں کیلئے سب کچھ بنا ہوا ہوں تا کہ کسی طرح سے بعض کو بچاؤں۔“ (کرنتھیوں باب ۹ آیت ۱۹ تا ۲۲) چنانچہ پولوس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کے برخلاف یہ خیال لوگوں میں پھیلانا شروع کیا کہ نجات اعمال کی شریعت سے نہیں بلکہ ایمان کی شریعت سے ہے۔چنانچہ شریعت کے طوق اترتے ہی عیسائیوں میں بد عملی اور بدکاری کی ایسی رو چلی جو نہ چلتی اگر مسیح علیہ السلام کی باتوں کو مدنظر رکھا جاتا۔حالانکہ مسیح علیہ السلام نے تو صاف طور پر متنبہ کر دیا تھا کہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے کام اور عجیب کام دکھا ئیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔( متی باب ۲۴ آیت ۲۴) ایسا ہی ہوا کہ عیسائیت اپنے اصل کو چھوڑ کر پولوس کے جال میں پھنس گئی اور عالمگیر طور پر