حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 122 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 122

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 122 اور یوحنا نے گواہی دی ہے کہ میں نے روح کو کبوتر کی طرح آسمان سے اترتے دیکھا اور وہ اس پر ٹھہر گیا۔اور میں تو اسے پہچانتا نہ تھا مگر جس نے مجھے پانی سے بپتسمہ دینے کو بھیجا ہے اسی نے مجھ سے کہا کہ جس پر تو روح کو اترتے اور ٹھہرتے دیکھے گا وہی روح القدس سے بپتسمہ دینے والا ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا اور گواہی دی کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔“ ( یوحنا باب ایک آیات ۳۲ ۳۳) اس اقتباس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ یوحنا کا کشف تھا اور کشفی نظارہ دکھا کر ہونے والے مسیح کے متعلق آپ کو اطلاع دی گئی تھی غالبا دیگر انا جیل میں اس واقعہ کی نوعیت کو الفاظ کے ہیر پھیر سے بدل دیا گیا ہے۔آپ نے نبوت کی منادی کب کی؟ اس کے متعلق انا جیل کے بیانات مندرجہ ذیل ہیں : ” جب اس نے سنا کہ یوحنا پکڑوادیا گیا ہے گلیل کو روانہ ہوا۔اس وقت سے یسوع نے منادی کرنا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ تو بہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آگئی۔“ متی باب ۴ آیت ۱۳ تا ۱۷) مرقس باب ۱ آیت ۴ الوقا باب ۴ آیت ۲ اور باب ۱۵اور آیت ۱۵) ان باتوں کے بعد یسوع کے شاگرد یہودیہ کے ملک میں آئے او وہ وہاں ان کے ساتھ رہ کر بپتسمہ دینے لگا۔اور یوحنا بھی شالیم کے نزدیک عینون میں پستمہ دیتا تھا کیونکہ وہاں پانی بہت تھا اور لوگ آ کر پستمہ لیتے تھے۔کیونکہ یوحنا اس وقت قیدخانہ میں ڈالا نہ گیا تھا۔“ تینوں اناجیل متی ، مرقس اور لوقا اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کا زمانہ اعلان ماموریت یوحنا کے پکڑوائے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔لیکن یوحنا کو ان تینوں سے اختلاف ہے یوحنا کی انجیل یہ کہتی ہے کہ ایک ہی وقت میں دونوں نبی اپنی اپنی جگہ پستمہ دیتے تھے اور جب یوحنا کے شاگردوں نے اس بات کا ذکر تعجب سے کیا اور کہا کہ جو شخص ہر دن کے پار تیرے ساتھ تھا جس کی تو ( یوحنا باب ۳ آیات ۲۲ تا ۲۴)