حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 121 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 121

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 121 ۱۲ آیت ۱۲-۱۳ اور لوقا باب ۹ آیت ۲۸ تا ۳۰ اور مرقس باب ۹ آیت ۷۔۸ میں آپ نے اپنے آپ کو نبیوں کی طرح ایک نبی کہا۔پطرس شمعون بر یوناہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا تھا اسی طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بھی آپ کا مقام بتایا گیا تھا اور انہوں نے اپنے شاگردوں کو بھی اس سے آگاہ فرمایا تھا۔(دیکھیں یوحنا باب ۱۶ آیات ۱۲ تا ۱۳ اور منتی باب ۱۶ آیت ۷ ایوحنا باب ۱۷) قرآن کریم اور انا جبیل اس حد تک تو آپ کے دعویٰ نبوت ورسالت اور مسیحیت میں متفق نظر آتی ہیں ان دلائل قرآنیہ واناجیل کی موجودگی میں اگر کوئی شخص کوئی اور دعویٰ آپ کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ رڈ کرنے کے قابل ہے نہ کہ قبول کرنے کے لائق۔آپکے دعوی نبوت و مسیحیت کی ابتداء انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ۳۰ سال کی عمر میں تعلیم دینی شروع کی جیسا کہ لکھا ہے: ” جب یسوع خود تعلیم دینے لگا قریباً ۳۰ برس کا تھا۔(لوقا باب ۳ آیت ۲۳) اور آپ پر روح القدس کا نزول یوحنا علیہ السلام سے بپتسمہ لینے کے فورابعد ہوا تھا جیسا کہ لکھا ہے: ” یسوع بھی پیستمہ پا کر دعا کر ہا تھا تو ایسا ہوا کہ آسمان کھل گیا اور روح القدس جسمانی صورت میں کبوتر کی مانند اس پر نازل ہوا۔“ (لوقا باب ۳ آیت ۲۲ مرقس باب ۱ آیت ۰ ۱ متنی باب ۳ آیت ۱۶) لوقا نے روح القدس کے تجسم کا ذکر کیا ہے۔مرقس نے صرف روح کے نزول کا لیکن متی نے خدا کی روح کے الفاظ زائد لکھتے ہیں ان تینوں انجیلوں نے روح القدس کے نزول کا ذکر اس رنگ میں کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق بظاہر یوحنا سے کچھ نہیں بلکہ اس کا تعلق صرف مسیح کی ذات سے ہے۔لیکن یوحنا میں لکھا ہے: