حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 12 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 12

تھی جو کسی طرح بھی ۲۵ دسمبر نہیں ہوسکتی۔لکھا ہے: اس علاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو میدان میں رہ کر اپنے گلہ کی نگہبانی کر رہے تھے۔“ (لوقا ۸:۲) اور اس بات کی تائید میں پیکس کی تفسیر بائیبل اور رائز آف کر تیچینٹی۔انسائیکلو پیڈیا آف بریٹین کا اور چیمبرز انسائیکلو پیڈیا اور ینابیع الاسلام کے مصنفین نے بھی لکھا ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انجیل کا یسوع قرآن میں عیسی کیونکر ہو گیا ؟ معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی مادری زبان میں آپ کا نام عیسی ہی تھا اور ابتداء عیسائیت میں آپکو اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔اور آپ کا نام تراجم میں جا کر تبدیل ہوا ہے۔قرآن کریم نے آپکو آپکے اصل نام سے یاد کیا ہے۔اس امر کی تائید میں جو دلائل میسر آئے ہیں انہیں درج کر دیا گیا ہے۔آپ کی جوانی پر وقار اور پاکیز تھی جیسا کہ قرآن کریم نے آپکو غلاماً زکیا کہا ہے۔اور ایک لفظ میں آپ کی جوانی کی صحیح تصویر کھینچ دی ہے۔آپ اپنی والدہ کے فرماں بردار بیٹے تھے اور آپ کی والدہ آپ کی نبوت پر ایمان لانے والی مومنہ تھیں اور اسی راہ میں پوری طرح قربانی دینے والی خاتون تھیں اور آپ کی زوجہ محترمہ مریم بھی آپ کے مشن کی تکمیل کیلئے ہر وقت آپ کے ہمراہ سرگرم عمل تھیں۔آپ نے ایک عام انسان کی طرح زندگی گزار دی اور خدا تعالیٰ کی عبادات اور ریاضات میں مصروف رہے۔یہاں تک کہ حضرت یحی علیہ السلام سے بپتسمہ بھی لیا۔چالیس دن کی چلہ کشی آپکی اس تڑپ پر دال ہے جو آپ کو اپنے مولیٰ سے عشق کی وجہ سے تھی۔اور یہ بھی ہے جب آپ صلیب سے بیچ کر بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں نکلے تو مکہ میں بیت اللہ کی بھی آپ نے جا کر زیارت فرمائی جس کی تائید آنحضرت ﷺ کے اس کشف سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں آپ نے ستر نبیوں کو بشمول حضرت عیسی علیہ اسلام کے