حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 11
ہوں گے۔کیونکہ وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور نہ ہے اور نہ کوئی اور نشہ پئے گا۔(لوقا ۱۲:۱ تا ۱۵) اسی طرح آپ کی بغیر باپ کے پیدائش میں بھی کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کو کسی ایسی عظمت کا سزاوار سمجھا جائے کہ گویا آپ خدا کی خدائی میں شریک ہو گئے ہیں۔انسائیکلو پیڈیا آف بریٹیز کا نے اور بھی بعض ایسی مثالیں پیش کی ہیں جن کی پیدائش بن باپ ہوئی تھی۔مثلاً چنگیز خان خود اور منچو خان کے جدا مجد بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔اور اس معاملہ میں قرآن کریم حضرت مسیح علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام سے مشابہہ قرار دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کی اس قسم کی پیدائش کو بنی اسرائیل کیلئے انذار اور نبوت کا بنی اسرائیل سے بنو اسماعیل کی طرف منتقل کئے جانے کی علامت قرار دیتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت سے بھی یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ” وہ عظیم الشان نبی“ بنو اسماعیل میں سے ظاہر ہوا۔جسکی بابت لکھا ہے: خدا وند تیرا خدا تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا۔“ (استثنا ۱۵:۱۸) اور حضرت مسیح علیہ السلام خود بھی بنی اسرائیل کو انذار فرما چکے تھے اور یہ کہہ چکے تھے: ” خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائیگی۔اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے (متی ۴۳:۲۱) دی جائیگی۔“ آپ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی یہ بھی ایسے سوالات ہیں جنکا جواب اور حل ضروری ہے۔کیونکہ دنیائے عیسائیت آپ کی پیدائش کو ۲۵ دسمبر اور موسم سرما میں تسلیم کئے ہوئے ہے۔جب کہ قرآن کریم اسے تسلیم نہیں کرتا اور انجیل کے حوالوں سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ قرآن کریم درست کہتا ہے کہ آپ کی پیدائش موسم سرما کے بجائے موسم گرما میں ہوئی