حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 10 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 10

حرف اوّل حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی کیا تھا اور قرآن وانجیل کی رو سے آپ کی طرف منسوب کئے جانے والے دعاوی کی حقیقت کیا ہے، اس موضوع پر یہ کتاب پیش کی جا رہی ہے۔دعاوی کے متعلق کچھ کہنے سے پیشتر مدعی کے حالات زندگی اور اس کی شخصیت کے خد وخال کو اجاگر کرنا بھی ایک ضروری امر معلوم ہوتا تھا تا کہ آپ کے دعاوی کو پر کھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔اسی لئے پہلے تین ابواب میں آپ کے حالات زندگی کو بیان کیا گیا ہے۔اختصار کے ساتھ آپ کی زندگی پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے انجیل کی طرف سے پیش کردہ آپ کے نسب ناموں اور قرآن کریم کے بیان کردہ آپ کے حسب و نسب کی حقیقت تک پہنچنے کیلئے چھان بین کی گئی ہے۔انجیل ایک طرف تو آپ کی پیدائش کو بن باپ تسلیم کرتی ہے اور دوسری طرف اس کوشش میں ہے کہ آپ کو ابن داؤ د ثابت کیا جائے، لیکن قرآن کریم آپ کو آل عمران میں سے قرار دیتا ہے اور کسی قسم کے تضاد کا شکار نہیں۔جبکہ انجیل میں گویا ایک تضاد پایا جاتا ہے۔قرآن کریم آپ کی والدہ کو آل عمران کا ایک فرد بتاتا ہے اور اس کا ثبوت انا جیل سے بھی ملتا ہے اور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ آپ علیہ السلام کو بھی والدہ کی نسبت سے آل عمران کا ایک فرد قرار دیا جانا چاہئے اور مفسرین بائیبل نے بھی یہ بات صحیح قرار دی ہے اور بشارات کے ساتھ پیدائش ہونے کے لحاظ سے آپ کو حضرت یحی علیہ السلام کے ساتھ ایک مشابہت حاصل ہے۔جیسا کہ لکھا ہے: اور زکریا دیکھ کر گھبرا گیا اور اس پر دہشت چھا گئی۔مگر فرشتہ نے کہا اے زکریا! خوف نہ کر کیونکہ تیری دعاسنی گئی اور تیرے لئے تیری بیوی الیصبات کے بیٹا ہو گا تو اس کا نام یوحنا رکھنا اور تجھے خوشی و خرمی ہو گی اور بہت سے لوگ اسکی پیدائش کے سبب سے خوش