حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 93
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 93 لے کر اپنی قوم میں واپس آئیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن رشتہ دارٹوہ میں رہے تدبیر کارگر نہ ہوئی اور دشمنوں نے راز کا پتہ لگا ہی لیا اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے نشان کو نمایاں کرنے کیلئے راز فاش کر دیا۔“ ، (تفسیر کبیر از حضرت مصلح موعودؓ صفحہ ۱۹ ایدین اول مطبوعہ ادارۃ المصنفین ، ربوده پاکستان ) حضرت مسیح علیہ السلام کی حضرت بحی علیہ السلام سے بیعت اور ان سے بپتسمہ لینا حضرت مسیح علیہ السلام نے ابتداء سے ہی شریعت موسویہ کی تعلیم پائی۔اس لئے عہد نامہ قدیم کے اقتباسات بھی آپکو زبانی یاد تھے۔آپ حسب موقع اپنی گفتگو میں بیان بھی فرماتے تھے۔اناجیل اربعہ میں کثیر مواقع پر اس کا ثبوت ملتا ہے مثلاً : پستمہ پانے کے بعد جب شیطان آپ کو آزما تا رہا تو آپ نے اس کے سامنے اپنے دفاع میں عہد نامہ قدیم کی تعلیم ہی رکھی۔حالانکہ شیطان کوئی یہودی تو نہ تھا کہ آپ اس پر حجت کر رہے تھے۔“ ( متی باب ۴ آیت ۱ تا ۱۴) اور اسی طرح طالمود آف جیزز (12-Talmud of Jesus (PasachinVI) اور طالمودآف باب, 66۔9 Talmud of Bab۔Pasachin) First printed in USA, Canada, Produced in Jerusalem by (Keter Publishing House Ltd۔Israel ہر ایک کے ابو تھ باب ایک اور دو سے معلوم ہوتا ہے کہ: "Hallel was the true master of Jesus" یعنی حلل جو یہودی فقہ کے ایک سلسلہ کا بانی تھا وہ مسیح علیہ السلام کا استاد تھا یعنی آپ ھلل