حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 92 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 92

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - بچہ ہے کیا حرام کے بچے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں تم اس سے بات کر کے تو دیکھو تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ یہ حلال زادہ ہے یا نہیں ؟“ 92 انا جیل میں نبوت کے اعلان کے بعد آپ کی تبلیغ کا کسی قدر تفصیل سے ذکر ہے اور آپ کی وعظ ونصیحت بیان کی گئی ہے۔مثال کے طور پر لکھا ہے: پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوانگلیل کولوٹا اور سارے گردونواح میں اس کی شہرت پھیل گئی اور وہ اُن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتارہا اور سب اس کی بڑائی کرتے رہے اور وہ ناصرہ میں آیا جہاں اس نے پرورش پائی تھی اور اپنے دستور کے موافق سبت کے دن عبادت خانوں میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہوا۔۔۔پھر آپ نے یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۶۱ آیت ۱ تا ۳ جو آپ کو دی گئی تھی سے پڑھا اور تبلیغ کی اور سب نے اس پر گواہی دی وہ ان پر فضل باتوں پر جو اس کے منہ سے نکلتی تھیں تعجب کر کے کہنے لگے کیا یہ یوسف کا بیٹا نہیں ؟ (لوقا باب ۴ آیت ۱۵ تا ۲۳) انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش بیت لحم کے مضافات میں ہوئی تھی جو آپ کے قانونی باپ کا وطن تھا اور آپ ایک لمبا عرصہ اپنے نھیال سے دور رہ کر پرورش پاتے رہے جیسا کہ ہم گذشتہ ابواب میں لکھ آئے ہیں اور حضرت مریم آپ کو لے کر اس وقت ناصرہ میں آئیں جب آپ نبوت پر سرفراز ہو چکے تھے۔اور اس وقت آپ کی غیر معمولی گفتگو اور تبلیغ آپ کے رشتہ داروں کے ساتھ ہوئی جس کا ذکر سورہ مریم کی آیات میں ہے۔اس سے قبل بیت لحم یعنی یروشلم کے گرد و نواح میں ہی پرورش پاتے رہے جیسا کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی فرمایا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مریم کئی سال باہر رہیں جب تک کہ وہ تمیں سال کے ہو گئے۔آپ فرماتے ہیں: اور اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت کے مقام پر فائز کر دیا تو حضرت مریم ان کو ساتھ