حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 90 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 90

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل کی سنتے اور ان سے سوال کرتے ہوئے پایا اور جتنے اس کی سن رہے تھے اس کی سمجھ اور اس کے جوابوں سے دنگ تھے۔“ (لوقا باب ۲ آیت ۴۶ - ۴۷) 90 پس قرآن کریم کی سورۃ مریم میں جس تکلم فی المہد کا ذکر ہے وہ تمہیں سال کی عمر میں اس وقت کا کلام کرنا ہے جب یوحنا کی وفات کے بعد آپ نے اعلان نبوت فرمایا جیسا کہ قرآنی آیات کے سیاق سباق سے معلوم ہوتا ہے ورنہ اگر یہ سمجھا جائے کہ آپ نے پنگھوڑے میں یہ کہا قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللهِ ، اتْنِي الْكِتَبَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا هِ وَجَعَلَنِي ط قف مُبرَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ - وَأَوْصَنِي بالصَّلوةِ وَالزَّكَوةِ مَادُمْتُ حَيَّاه وَبَر ا بِوَالِدَ تِي ، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيَّاه (سورة مريم : آیات ۳۱ تا ۳۳) کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور مجھے نبی بنایا گیا ہے۔حالانکہ آپ پوتڑوں میں پڑے تھے اور اس وقت ابھی نبوت سے بھی سرفراز نہیں ہوئے تھے اور یہ کہنا کہ نماز اور زکوۃ کا مجھے حکم دیا گیا ہے جبکہ آپ پر نہ ابھی نماز فرض تھی اور نہ ہی اپنا کچھ بھی نہ ہونے کی وجہ سے زکوۃ فرض تھی اور مجھے والدہ سے نیک سلوک کرنے والا ٹھہرایا ہے جبکہ ابھی سلوک تو کیا آپ خود سلوک کے محتاج تھے۔یہ سب باتیں اگر پنگھوڑے میں متصور کی جائیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ نبی نہیں تھے مگر اس کے باوجود آپ نے اپنے آپ کو نبی کہا۔آپ پر نماز اور زکوۃ فرض نہیں تھی مگر آپ نے کہا مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔لیکن یہ میچ نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو غلاما زکیا کہا ہے۔جس میں جھوٹ کی نفی موجود ہے۔باقی رہا فَاتَتْ به قَوْمَهَا تَحْمِلُہ میں حملہ سے نتیجہ نکالنا کہ حضرت مریم آپ کو گود میں اٹھا کر لائی تھیں یہ بھی درست نہیں کیونکہ ایسا ترجمہ کرنا قرآنی محاورہ کے خلاف ہے جیسا کہ سورۃ جمعہ آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: