حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 80
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 80 ہوتا ہے کہ قرونِ اولیٰ میں گلیلی عیسائی حضرت یح علیہ السلام کو کیسی ہی کہتے تھے۔جس کی وجہ سے وہ خود عیسائی کہلاتے تھے۔مریم اور ابن مریم کی مادری زبان میں انجیل کا کوئی نسخہ محفوظ نہیں البتہ صحائف مند یہ جونسطوری یحی' کی تحویل میں ہیں۔وہ اسی زبان میں ہیں جو کہ حضرت مسیح بولا کرتے تھے۔ان صحائف میں آپ کا نام ہمیں مین سے عیسو مسیحا ملتا ہے۔(انسائیکلو پیڈیا ریلیجس اینڈ تھکس (published in London)زیرلفظMandians) یہ امر بھی مدنظر رہنا چاہئے کہ منڈین اس مسیح کے قائل نہیں جس کا نام عیسو مسیحا بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ رومی مسیح الوھیت کا مدعی تھا۔حقیقی مسیح اور تھا۔انجیلی مسیح کو وہ سچا نہیں سمجھتے ہیں یہاں اس وقت اس بات سے تو کوئی مطلب نہیں بلکہ نام کے تلفظ سے غرض ہے چنانچہ انجیلی مسیح کو مسیحا سمجھیں یا نہ سمجھیں اس کا نام اُن کے قدیمی صحائف میں ” عیسو سی ، جو آرامی میں عیسی کے مشابہہ ہے آیا ہے۔۔۔۔۔Jesus in Quran کے نام سے ایک کتاب جیوفری پیرنڈر نے لکھی ہے اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ جنوبی شام اور عرب کے نسطوری عیسائیوں نے الیسوعہ کو عیسی کہنا شروع کر دیا اس کے ثبوت میں وہ جنوبی شام کی ایک خانقاہ کا ذکر کرتے ہیں جو کہ ۵۷۱ عیسوی تک عیسا نیہ کہلاتی تھی۔یعنی عیسی کے ماننے والوں کی خانقاہ۔وہ لکھتے ہیں: "It is possible that the pronunciation of the syriac word was varied Nestorian christians in southern Syria and Arabia۔It seems that there was a monastery in southern Syria which as early as A۔D 571 bore the name "Isaniya " of the followers of jesus۔"