حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 79
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 79 اللہ ہے کہ وہ ہم سے اس کی اپنی زبان میں کلام فرماتا ہے اور قرآن کریم نے پیغمبر گلیل کے گم شدہ نام کو دوبارہ دنیا کے سامنے رکھ دیا۔اس حقیقت کی تائید میں جو دلائل میسر آئے ہیں وہ پیش کئے جاتے ہیں: یوسی بیوس تاریخ کلیسیا کا باپ سمجھا جاتا تھا۔اس کی تاریخ میں قرنِ اولیٰ کے بعض فرقوں کا ذکر ہے پہلے علماء یہ سمجھتے تھے کہ یہ یہودی فرقے ہیں۔اب مزید تاریخی خزائن کے دستیاب ہونے پر علماء کا یہ نظریہ بہت حد تک بدل گیا ہے۔موجودہ نظریہ یہ ہے کہ یہ ان عیسائیوں کے نام ہیں جو عبرانی النسل تھے۔یعنی یہودیوں میں سے عیسائی ہوئے تھے۔پولوس چرچ نے بعد میں انہیں بدعتی قرار دے دیا تھا پہلے با این صورت ہیں۔عیسائیو Essaioe Galilioe انجیل میں لکھا ہے کہ یہودی حواریان مسیح کوگلیلی کہتے تھے۔تاریخ میں انکا اولین نام ” عیسائیو ہے کیونکہ وہ عیسی علیہ السلام کو مانتے تھے۔تیسری صدی کی یہ شہادت بہت قابل غور ہے۔اس پر تفصیل سے بحث میتھیو بلیک نے اپنی کتاب The Scrolls and Christian Origins میں کی ہے۔(صفحه ۵۳-۵۴) چوتھی صدی کے ایک عیسائی عالم ” اپنی فنی نی الیس گواہی دیتے ہیں کہ ابتداء نصاری عیسائیو“ کہلاتے تھے۔انگریزی میں Essaioe اور بعد میں کرسچین کہلائے۔The Scrolls and Christian Origins by Mathew Black صفحه ۷۲) published in London by N۔Y Charles Scribner's Sons 1961) اس حوالہ میں بیان کردہ تاریخی حقیقت کے متعلق یہ کیوں نہ خیال کیا جائے کہ حواریان مسیح جو کہ سب گیلی تھے عیسی نام کی وجہ سے عیسائی کہلاتے تھے۔ورنہ یسوع نام کی وجہ سے تو انہیں " یسوعی“ کہلا نا چاہئے تھا۔اور ایسا نہیں تھا بلکہ عیسائی“ کہلاتے تھے۔اس شہادت سے بھی معلوم