حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 75 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 75

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 75۔۔۔مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔وَأُمُّهُ صِدِيقَةٌ ، كَانَا يَأْكُلَنِ الطَّعَامَ ، أَنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُوْنَ انا جیل میں مسیح علیہ السلام کا نام (سورة المآئدة: آیت ۷۶)۔۔۔۔۔۔۔یسوع مسیح ابن داؤد ابن ابراہیم کا نسب نامہ۔(متی باب اآیت۱) فرشتہ نے خواب میں یوسف سے کہا۔۔۔اس کے بیٹا ہوگا اور تو اس کا نام یسوع رکھنا۔گے۔( متی باب ا آیت ۲۱)۔۔۔۔د کچھ ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اس کا نام عمانویل رکھیں (متی باب (آیت ۲۳)۔۔۔۔اور اس کا نام یسوع رکھا۔(متی باب اآیت ۲۵)۔۔۔۔۔ناصرہ نام ایک شہر میں جابسا تا کہ جو نبیوں کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہوا کہ وہ ناصری کہلائے گا۔(متی باب ۲ آیت ۲۳)۔۔۔۔اور اس کا الزام لکھ کر اس کے سر سے اوپر لگا دیا کہ یہ یہودیوں کا بادشاہ یسوع ہے۔(متی باب ۲۷ آیت ۳۸) یسوع مسیح ابن خدا کی خوشخبری کا شروع۔(مرقس باب ایک آیت۱)۔۔۔وہ ناصرہ میں آیا جہاں اس نے پرورش پائی تھی اور اپنے دستور کے موافق سبت کے دن عبادت خانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہوا۔اور یسعیاہ نبی کی کتاب اس کو دی گئی اور کتاب کھول کر اس نے وہ مقام نکالا جہاں یہ لکھا تھا کہ خداوند کا روح مجھ پر ہے۔اسلئے کہ اس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کیلئے مسخ کیا۔ط (لوقا باب ۴ آیت ۱۶ تا ۲۰)