حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 65
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 65 حضرت مسیح علیہ السلام کا مقام پیدائش اور تاریخ پیدائش قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی ایسے مقام پر پیدا ہوئے تھے جہاں پر کھجوریں پائی جاتی تھیں۔اور ایسے وقت میں پیدا ہوئے جبکہ کھجوریں پکی ہوئی تھیں اور نشیب وفراز والا پہاڑی علاقہ تھا لکھا ہے: فَنَادَهَا مِنْ تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيَّاه وَهُزِّنْ إِلَيْكِ بجذع النَّخْلَةِ تُسْقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيَّاهِ فَكُلِيْ وَاشْرَبِي وَقَرِى عَيْنًا (سورة مريم: آیات ۲۵ تا ۲۷) ترجمہ: ” پس فرشتہ نے اس کی نچلی جانب سے پکار کر کہا اے عورت ) غم نہ کر تیری نچلی جانب ایک چشمہ بہایا گیا ہے (اس کے پاس جا اور اپنی اور اپنے بچہ کی صفائی کر) اور کھجور جو تیرے قریب ہے اس کی ٹہنی کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ وہ تجھ پر تازہ بتازہ پھل پھینکے گی۔پس ان کو کھاؤ اور چشمہ کا پانی بھی پیو۔(اور خود نہا کر اور بچہ کو نہلا کر ) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔“ بائیل سے بھی کھجوروں والے شہر اور علاقے کا پتہ لگتا ہے استثناء باب ۳۴ آیت ۳ میں لکھا ہے اور موسیٰ کو پہاڑ پر سے جنوب کا ملک اور وادی سیر یجو جو خرموں کا شہر ہے اس کی وادی کا میدان ضُغر تک اس کو دکھایا۔پھر قضاۃ باب ایک آیت ۱۶ میں لکھا ہے۔تب موسیٰ کے سرقینی کی اولاد کھجوروں کے شہر سے بنی یہودہ کے ساتھ یہودہ کے بیابان کو ، جو عراد دیکھن کی طرف ہے ، چڑھیں۔عراد ، جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے، بیت لحم سے کوئی سو میل کے فاصلے پر ہے اور اس کے شمال کی طرف کھجوروں کا شہر اور کھجوروں کا علاقہ ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیت لحم کے