حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 64
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 64 ایسے مشہور مورخ کا اس واقعہ کو بیان ہی نہ کرنا اور خاموش رہنا بتاتا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ وقوع پذیر نہیں ہوا اور یہ اس بات کیلئے کافی دلیل ہے کہ یہ واقعہ متی کے مصنف کی خود ساختہ ایجاد ہے۔ایسا کوئی قتل عام کا واقعہ نہیں ہوا اور نہ ہی مسیح علیہ السلام اور ان کے والدین کو ہیر وولیس سے ڈرکر اور خواب کی بشارت کے مطابق مصر کا سفر اختیار کرنا پڑا۔عجیب بات تو یہ ہے کہ اس واقعہ میں ایک جگہ فرشتے کو بھی اطلاع دینے میں غلطی لگ گئی ہے۔یعنی یوسف کو فرشتہ نے اطلاع دی کہ خطرہ ٹل گیا ہے اور واپس چلے جاؤ لیکن یوسف کے نزدیک ابھی واپس بیت لحم میں جانا خطرہ سے خالی نہ تھا جیسا کہ لکھا ہے: دو ” جب ہیر وولیس مرگیا تو دیکھو خداوند کے فرشتہ نے مصر میں یوسف کو خواب میں دکھائی دے کر کہا کہ اُٹھ اس بچے اور اس کی ماں کو لیکر اسرائیل کے ملک میں چلا جا۔کیونکہ جو بچے کی جان کے خواہاں تھے وہ مر گئے۔پس وہ اٹھا اور بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لیکر اسرائیل کے ملک میں آ گیا مگر جب سنا کہ ارخلاؤس اپنے باپ ہیر وولیس کی جگہ یہودیہ میں بادشاہت کرتا ہے۔تو وہاں جانے سے ڈرا اور خواب میں ہدایت پا کر گلیل کے علاقہ کوروانہ ہو گیا اور ناصرہ نام کے ایک شہر میں جابسا تا کہ جو نبیوں کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا۔(متی باب ۲ آیت ۱۹ تا ۲۳) چنانچہ فرشتہ نے دوبارہ خواب میں ہدایت دی کہ غلطی ہوگئی ہم سے اس کی اصلاح اسطرح کی جاتی ہے کہ اب تم اسرائیل میں جانے کی بجائے گلیل کے علاقہ میں چلے جاؤ اور آگے یہ غلطی جو فرشتے کو متی کے مصنف نے لگائی ہے اس کی قلعی بھی اُس وقت کھل جاتی ہے جبکہ ناصری کہلانے والی پیشگوئی کو چسپاں کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ منتی کے انجیل نولیس نے جابجا پیشگوئیوں کو زبردستی چسپاں کرنے کیلئے غلط اور خلاف تاریخ واقعات کو ایجاد کیا ہے۔(انالله وانا اليه راجعون)