حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 52 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 52

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 52 باپ کی طرف سے اسرائیلی ہوگا اور نہ ماں کی طرف سے اسرائیلی ہوگا اور مسیح کے وجود میں وہ وعدہ پورا ہوا اور اس کے ذریعہ سے یہود کونوٹس دے دیا گیا کہ آدھی نبوت ان سے لے لی گئی ہے۔کیونکہ نسل ہمیشہ باپ سے چلتی ہے سو انہیں کہا گیا کہ اب جو نبی آیا ہے۔وہ باپ کی طرف سے یہود میں سے نہیں ہے۔اگر اس انذار سے بھی یہود نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا تو اگلا نبی بالکل ہی غیر اسرائیلی ہوگا گوابراہیم کی نسل سے ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔“ ( تفسیر کبیر۔سورہ مریم جلد چہارم صفحه ۸۶ ایڈیشن اول) پس حضرت مسیح علیہ السلام کی بن باپ پیدائش میں یہ حکمت تھی تا کہ یہود کو نبوت کے انعام کی منتقلی سے آگاہ کیا جائے اور دوسری طرف ان کی بداعمالیوں کی انہیں یہ انعام لیکر سزادی جائے اور یہ کہ حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل کی نسل کو بھی نبوت ورسالت کے عظیم الشان انعام سے نوازہ جائے اور اُن سے بھی اپنے عہد کو پورا کیا جائے تاکہ اس عظیم نبی کو برپا کیا جائے جو مثیل موسیٰ ہونا تھا جس کے متعلق پیشگوئیاں تو رات میں اور انجیل میں بکثرت موجود و ویل یوں ہوا تھا جس کے تعلق پیچا تھیں۔ولادت مسیح علیہ السلام کے متعلق قرآنی بیان قرآن کریم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کے متعلق بڑی وضاحت کے ساتھ تاریخی حقائق سے نقاب کشائی فرمائی ہے اور انجیل کے سقم کو دور کرتے ہوئے صحیح حالات سے روشناس کروایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيَّاه فَأَجَاءَ هَا الْمَخَاضُ إِلى جِذْعِ النَّخْلَةِ ، قَالَتْ يَلَيْتَنِي مِثْ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيَّاه