حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 51
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل اسماعیل) میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا۔“ 51 بن باپ پیدائش کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہم نے بیسیوں دفعہ سنا ہے کہ مسیح کی بن باپ پیدائش نبوت کا کانٹا پھیر نے اور یہود کو یہ بتانے کیلئے تھی کہ بنی اسرائیل سے خدا تعالیٰ نے اپنا منہ موڑ لیا ہے اور وہ ان کی بداعمالیوں کی سزا میں نبوت کا سلسلہ ایک دوسری قوم میں منتقل کرنے والا ہے۔چونکہ سلسلہ نبوت باپ کی طرف سے چلتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا یہ بتانے کیلئے کہ اب یہود میں کوئی مردا ایسا نہیں رہا جس کی اولاد میں سے کسی کو نبی بنایا جاسکے۔چنانچہ اب ہم جس کو نبی بنارہے ہیں۔بغیر باپ کے بنارہے ہیں۔صرف اس کی ماں اسرائیلی ہے مگر آنے والے نبی میں اتنا حصہ بھی نہیں ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ اسرائیل سے اپنے تعلقات کلی طور پر منقطع کر لے گا۔“ پھر فرماتے ہیں: ( تفسیر کبیر سورۃ مریم جلد چہارم صفحه ۱۵۳ ایڈیشن اوّل) لوگ دلیر ہو گئے اور انہیں اس امر کا یقین ہو گیا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے۔خدا تعالیٰ اولاد ابراہیم کو نہیں چھوڑ سکتا۔اور موسوی سلسلہ سے نبوت اور بادشاہت باہر نہیں جاسکتی۔اس کا نتیجہ یہ نکلنا شروع ہوا کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء کا انذار بے کار جانے لگا۔نبی آتے اور اپنی تعلیم پیش کرتے تو یہود ان کا مضحکہ اڑا دیتے جیسا کہ یرمیاہ و غیرہ آئے اور یہود سے ہنس کر اُن کو رڈ کر دیا اور سمجھا کہ خدا نے یہ نعمت ہمیں ہمیشہ کیلئے دے دی ہے۔تب انہیں خدا نے بعض انبیاء کی معرفت یہ خبر دی کہ ایک کنواری بیٹا جنے گی یعنی وہ موعود آدھا اسرائیلی اور آدھا غیر اسرائیلی ہو گا۔یہ ایک انذار تھا جس میں اسطرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اگر یہود نبیوں کی باتیں نہ سننے پر اسطرح مقر رہے تو آئندہ وہ نبی آئے گا جو نہ