حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 38 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 38

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل 38 کو آپنے صدیقہ کہا ہے اور ان کے احسان کو بیان کیا ہے۔جس سے قرآنی بیان کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ درست حقائق کو بیان کر رہا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا خاندان اور خاندانی حالات از روئے بائیبل تو رات کی رو سے عمرام یا عمران حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون اور انکی بہن مریم کے والد کا نام ہے ( گفتی باب ۲۶ آیت ۵۹) عمران لاوی بن اسرائیل کے پوتے تھے اور خاندان عمران کے بانی تھے (خروج باب ۶ آیت ۱۸ تا ۲۰) اور بنی اسرائیل میں خاندان کہانت کا تعلق حضرت ہارون کی نسل سے تھا ( تواریخ اول باب ۶ آیت (۴۴) جو کہ آل عمران کے چشم و چراغ تھے۔چونکہ کا ہن اس خاندان میں سے چنے جاتے تھے اس لئے یہ خاندان بنی اسرائیل میں سے سب سے بڑی عزت و منزلت کا نشان سمجھا جاتا تھا۔اسی خاندان سے شروع میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون جیسے نبی ظاہر ہوئے۔اور ان کی بڑی بہن مریم بھی ملہمہ تھی۔جس کے باعث تو رات میں ان کو نبیہ لکھا گیا ہے۔(گنتی باب ۲۶ آیت ۵۹) پھر حضرت ہارون کی نسل میں کا ھنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو دین اور شریعت کے محافظ اور کل قوم کے امام تھے۔بائیبل میں لکھا ہے کہ عمرام کی اولا د ہارون اور موسیٰ اور مریم اور نبی ہارون ہیں۔(دیکھیں تواریخ اول باب ۴ آیت۱) آخر میں اس خاندان میں سے حضرت زکریا اور حضرت یحی علیہ السلام مبعوث ہوئے۔اور انجیل لوقا میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت زکریا مشہور و معروف کا ہن ابیاہ کی نسل میں سے تھے۔( دیکھیں لوقا 1 آیت ۵) تو رات میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابیاہ ابنائے ہارون میں سے تھے یعنی آل عمران سے تعلق رکھتے تھے۔(دیکھیں تواریخ اول باب ۲۴ آیت ۱۰ تا ۱۹) ابتدائی موحد عیسائی فرقہ جو کہ ابیونی کہلاتا تھا ان