حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 37
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل 37 حضرت عیسی علیہ السلام جیسا عظیم الشان نبی پیدا ہوا۔جو سلسلہ موسوی کا آخری نبی اور آنحضرت جیسے باکمال اور افضل الرسل خاتم النبین ﷺ کا ارباص ہوا۔دھیری نے قرآن کریم پر الزام لگایا ہے کہ وہ واقعات کو دنیا کے سامنے غلط رنگ میں پیش کرتا ہے۔لیکن یہاں تو قرآن کریم کے پیش کردہ حقائق نہ صرف واقعات و مشاہدات بلکہ عقل کی کسوٹی پر بھی سو فیصدی صحیح ثابت ہورہے ہیں۔بلکہ اناجیل نے واقعات کو توڑ مروڑ کر حقائق کے برخلاف لکھا ہے۔ایک معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ متی مرقس لوقا اور یوحنا نے یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ وہ بہت مقرب ہیں مسیح کی والدہ پر انتہائی ظلم کیا ہے کہ ان کو کافرہ اور بے ایمان ٹھہرا دیا ہے۔لیکن قرآن کریم نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی علیحدہ کر کے دکھا دیا ہے۔چنانچہ حضرت مریم جو اپنے بیٹے کا جلد از جلد بڑھنا اور حکمت اور دانائی میں ترقی کرناد یکھ چکی تھیں اور ان پر ایمان لائی تھیں۔مصر میں ناگ حمادی کے مقام سے نکلنے والی تو ما حواری کی انجیل میں ایک مسیح کا قول لکھا ہے جس سے یہ بات مزید پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ قرآن کا بیان ہی درست ہے۔یسوع نے کہا جو اپنے باپ اور ماں سے میری راہ میں نفرت نہیں کرتا وہ میرا شاگر دنہیں بن سکے گا۔اسی طرح جو شخص اپنے باپ اور ماں سے میری راہ میں محبت نہیں کرے گا وہ میرا شاگرد نہیں بن سکے گا۔اس کے بعد اپنی والدہ کے متعلق فرماتے ہیں: ” میری ماں ہاں میری صدیقہ ماں اس نے مجھے زندگی سے روشناس کیا۔“ ( قول ۱۰۱) (The Gospal According to Thomas Published by Harper & Brothers 1959) اس حوالہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح کی تعلیم عمومی رنگ میں یہ تھی کہ اس کے شاگرد اپنے کافر والدین سے بے شک علیحدہ رہیں مگر مومن والدین سے حسن سلوک کریں اور اپنی والدہ