حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 36 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 36

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 36 سے افضل تھیں۔عجیب بات تو یہ ہے کہ انا جیل میں ہی لکھا ہے کہ آپ روح القدس سے حاملہ ہوئیں اور فرشتہ نے آپکو اس غیر معمولی پیدائش اور معجزانہ طور پر ایک غیر معمولی قوتوں والے بیٹے کی بشارت دی تھی۔جو ظاہری حالات کے لحاظ سے قطعی ناممکن نظر آتی تھی۔اور پھر خدا تعالیٰ نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔پھر بھی وہ باوجود اس عظیم الشان نشان کو دیکھنے کے انجیل کے کہنے کے مطابق مسیح علیہ السلام کو نعوذ باللہ پاگل سمجھتی رہیں اور اس پر ایمان نہ لائیں۔اگر کسی کو رویاء میں بچہ کی پیدائش کے متعلق بتایا جائے پھر اس کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو بے شک یہ ایک نشان ہوگا۔مگر جتنا بڑا یہ معجزہ تھا اتنا بڑا نہیں ہو سکتا۔یہاں کوئی معمولی نشان نہیں دکھایا گیا۔یہاں ایک کنواری حاملہ ہوتی ہے۔اور فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے خبر دیتا ہے کہ تیرے ہاں بچہ ہوگا اور اپنے اندر یہ صفات رکھے گا اور پھر واقعہ اسے حمل ہو جاتا ہے اور اسکے ہاں بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔اور وہ دنیا میں غیر معمولی عزت اور شہرت حاصل کرتا ہے۔کیادنیا کی کوئی بھی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ اتنے بڑے نشان کے بعد بھی وہ عورت اپنے بچے کو پاگل کہے گی۔یا اسکے دعوی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے گی۔جس نے خدا تعالیٰ کی قدرت کا اتنا بڑا اور عظیم الشان نشان دیکھا اس کیلئے تو انکار کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔پس انجیل کا یہ بیان کہ آپ کا فرد تھیں اور آپ حضرت عیسی کو پاگل سمجھتی تھیں عقلاً نا قابل قبول ہے۔انجیل میں کئی مریموں کا ذکر آتا ہے جنکی نیکی اور تقدس کی بڑی تعریف کی گئی ہے۔لیکن وہ مریم جو مسیح کی ماں تھی اسکو عیسائیوں نے مسیح کا دشمن اور مخالف ظاہر کیا ہے۔یہ بات نا قابل یقین ہے۔در اصل ام عیسی کو ہی دیگر خواتین پر فضیلت دی گئی تھی۔بنی اسرائیل کے محاورہ کے مطابق کسی کو ذراسی کچی خواب آ جاتی تھی تو اسے نبیہ کہ دیا جاتا تھا۔حضرت مریم کو تو کشفی طور پر عظیم الشان بشارت دی گئی اور ان کو اس غرض کیلئے ان کی پارسائی اور نیکی کی بدولت اور قرب خداوندی کے بموجب اس زمانے کی تمام خواتین میں چنا گیا۔ان پر روح القدس کا نزول ہوا۔ان کے بطن سے