حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 35
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔کھڑے تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔اس پر اس نے جواب میں خبر دینے والے سے کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی؟ اور اپنا ہاتھ شاگردوں کی طرف بڑھا کر کہا کہ دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور میری بہن اور میری ماں ہے۔“ 35 (متنی باب ۱۲ آیت ۴۹ تا ۵۰) ” وہ حیران ہو کر کہنے لگے یہ حکمت اور معجزے کہاں سے آئے ہیں۔کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں ؟ اور اسکی ماں کا نام مریم اور اسکے بھائی یعقوب اور یوسف اور شمعون اور یہوداہ نہیں ؟ اور کیا اسکی سب بہنیں ہمارے ہاں نہیں۔(انجیل مرقس باب ۳ آیت ۲۱) ” جب اسکے عزیزوں نے یہ سنا تو اسے پکڑنے کیلئے نکلے کیونکہ کہتے تھے وہ بے خود (انجیل مرقس باب ۶ آیت ۳۲) ہے۔" پھر لکھا ہے کہ اس کی ماں سے بے رخی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ایک دفعہ ایک عورت نے اس کے لیکچر سے متاثر ہو کر کہا: ”مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو رہا اور وہ چھاتیاں جو تو نے چوسیں۔مگر مسیح سے اتنی بات بھی برداشت نہ ہو سکی۔اور اس نے کہا: مگر زیادہ مبارک وہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔“ (انجیل لوقا باب ۱۱ آیت ۲۷۔۲۸) یہ وہ طعن و تشفیع اور حضرت مریم کی نعوذ باللہ بے ایمانی اور یسوع کی نبوت سے انکار کی تصویر ہے جو علماء یہود اور علماء انجیل دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے۔قرآن کریم نے اسکی پر زور تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ حضرت مریم عفیفہ تھیں اور راستباز اور ایمان دار تھیں اور دیگر حواریوں کے ساتھ مل کر رکوع و سجود کرنے والی عبادت گزار تھیں اور اس وقت کی تمام خواتین مثلاً مریم مگد لینی وغیرہ