حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 260 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 260

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔محترف حصوں کو صاف پہچان لیتے ہیں۔“ 260 باب ہشتم میں آپ کی طرف منسوب دعوی الوہیت کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بذات خود کہیں دعوی الوہیت نہیں فرمایا بلکہ یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ ابتدائی عیسائی تو حید کے علمبردار تھے اس کیلئے تاریخی ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔F۔C Conybeare کی کتاب The Origins of Christianity مطبوعہ لندن اور یورا نڈر ڈاکٹر چارلس فرانسس پوٹر کی کتاب The Lost Year of Jesus Revealed مطبوعہ میڈل بک کمپنی ، لندن اور اسی طرح کرسٹر سٹین ڈریل کی کتاب The Scrolls and the New Testament نے اس سلسلہ میں کافی مواد فراہم کیا ہے۔عیسائی صاحبان نے جن دلائل سے آپکی طرف دعوئی الوہیت کو منسوب کیا ہے انکی چھان بین کرنے کے بعد انکی تردید کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے انکے ابطال میں دلائل درج کر دیئے گئے ہیں۔جہاں باب اول میں آپ کے جسمانی نسب نامہ کی حقیقت بیان کر دی گئی ہے وہاں آخری باب میں آپ کے الوہی نسب نامہ کی حقیقت بھی بیان کی گئی ہے۔یوحنا کی ابتدائی آیات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کا الوہی نسب نامہ ہے حالانکہ مختلف تراجم کا مقابلہ کرنے اور گرائمر کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا گیا تو اس کے سوا اور کچھ بھی منکشف نہیں ہوا کہ آپ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے کلمہ کن کے نتیجہ میں ظاہر ہوئے اور اسمیں مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں تھی بلکہ تمام کائنات اور اس کا زرہ زرہ کلہ کن کا مرہون منت ہے۔بالآخر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے ایک خوبصورت اقتباس پر اس کتاب کو اختتام تک پہنچا تا ہوں۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: