حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 26 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 26

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔“ 26 علماء بائیل نے بھی نسب ناموں کے اس اختلاف اور اناجیل کے دو متضاد نظریات کی وجہ سے پیدا ہونے والی اس الجھن کو محسوس کیا ہے اور اس پر بحث کی ہے۔چنانچہ آکسفورڈ جونئیر انسائیکلو پیڈیا میں یسوع مسیح کے زیر لفظ جو مقالہ دیا ہے اس میں لکھا ہے: وو اور نئے عہد نامہ میں مسیح کے متعلق مختلف بیانات ملتے ہیں ایک طرف تو اسے یوسف اور مریم کا لڑکا کہا گیا ہے اور باپ کی جانب سے داؤد کے شاہی خاندان سے بتایا گیا ہے اور دوسری طرف یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اسکا باپ نہ تھا اور وہ کنواری کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔“ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود کا ایک بڑا طبقہ اس امر میں راسخ العقیدہ تھا کہ آنے والے مسیح کیلئے ابن داؤد ہونا لازمی ہے۔اور اس بات کیلئے بالکل تیار نہ تھے کہ وہ یہ سوچتے بھی کہ یسوع مسیح داؤد کی نسل کے علاوہ بھی پیدا ہوا سکتا ہے۔چنانچہ یہود کے اس عقیدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے انا جبیل میں مسیح کے ایسے نسب نامے درج کئے گئے ہیں جو کم از کم یوسف نجار کی طرف سے مسیح کو ابن داؤد ثابت کرتے ہیں۔چنانچہ پیکس کی شرح بائیبل کے صفحہ ۷۰۱ پر یوں لکھا ہے: شاید یہ تمام کے تمام نسب نامے اس لئے مرتب کئے گئے ہیں کہ یہود کے اس اعتراض کا جواب دیا جائے کہ یسوع مسیح نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ داؤد کی نسل سے نہیں ہے۔لیکن اس بات کو ثابت کرنے کیلئے ان نسب ناموں کا سہارا ایک بودہ اور کمزور سہارا ہے جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام یوسف نجار کی ذریت اور نسل سے ہی تسلیم نہیں کئے جاتے۔بشپ اپنی فی نیس چوتھی صدی عیسوی میں لکھتے ہیں کہ ابتدائی موحدین عیسائی جو کہ یہودی النسل تھے اور ابیونی یعنی غریب الطبع کہلاتے تھے۔متی اور لوقا کے نسب ناموں کی صحت کے منکر