حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 259 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 259

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔259 قرار دیا ہے۔اس لحاظ سے آپ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور ار ہاص تھے۔اس لئے ضروری تھا کہ اپنے پیروکاروں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبول کرنے کی وصیت کر جاتے۔چنانچہ یہی وہ بات تھی جس کے اظہار پر یہود برانگیختہ ہوتے تھے کہ انعام نبوت ان سے لیکر دوسری قوم یعنی بنو اسماعیل کو دے دیا جائے گا آپ نے تاکستان کی مثال میں بھی اسطرف اشارہ فرمایا اور کئی پیشگوئیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان فرمائیں اور کہا کہ : ” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں رکھتے۔لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔“ ( یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲ تا ۱۳) حضرت مسیح علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی عظمت اور بزرگی کو بھی قائم فرمایا اور پیشگوئی فرمائی کہ وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ اس پہاڑ پر باپ کی پرستش کرو گے اور نہ یروشلم میں۔“ ( یوحنا باب ۴ آیت ۲۱) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبادت خداوندی کا قیام یروشلم میں نہیں ہوگا بلکہ کہیں اور ہوگا اور وہ مقام کعبہ ہی ہو سکتا ہے اسی وجہ سے ابتدائی عیسائی زائرین کا کعبہ کی زیارت کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ ۲۱۲ میں لکھا ہے کہ تعمیر کعبہ کے وقت سریانی زبان میں لکھی ہوئی ایک کتاب اور بعض روایات کے مطابق کتبہ ملا تھا جس میں مناجات لکھی ہوئی تھیں۔جو کسی ابتدائی زمانہ کے عیسائی زائر نے تحریر کی تھیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ زائر حضرت مسیح علیہ السلام ہی تھے۔تحریف بائیبل سے آگاہ کرنا بھی حضرت مسیح علیہ السلام کا مشن تھا چنانچہ خطبات کا منائین میں لکھا ہے: دو ہمیں اور ہمارے پیغمبر کو وہ نگاہ بصیرت دی گئی ہے جس سے ہم تو رات کے