حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 253
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 253 ”خدا کوکسی نے کبھی نہیں دیکھا۔اکلوتا بیٹا جوخدا کی گود میں ہے اس نے اس کو ظاہر کیا۔“ ( یوحنا باب ا آیت ۱۸) نیوانگلش بائیبل کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ قدیم نسخوں میں اس عبارت کی صورتیں اور بھی ہیں۔خدا کوکسی نے بھی نہیں دیکھا لیکن صرف ایک نے جو خود خدا ہے اسی نے اُسے ظاہر کیا۔خدا۔گویا اس فقرہ کی بڑی صورتیں ہیں بعض نسخوں میں صرف ایک (شخص) کے الفاظ ہیں۔بعض میں اکلوتا بیٹا کے اور بعض میں خود خدا کے اور بعض میں ” پلوٹھا بیٹا کے متن میں تغیر تبدل کی یہ ایک بہت بڑی اور مین مثال ہے۔ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرون اولیٰ سے انجیل یوحنا کا پہلا ورق انسانی دستبرد اور تغیر وتبدل کا تختہ مشق بنارہا ہے اور دیباچہ میں تبدیلیاں کرنے کے بعد الو ہیت مسیح کی بنیاد رکھی گئی ہے اور اسی کی بنیاد پر ۳۲۵ ء میں ہونے والی عیسیقہ کی کونسل میں الوہیت مسیح کا عقیدہ منظور کروالیا گیا تھا۔مذکورہ انکشافات کے پیش نظر انجیل کے نئے تراجم میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔نیوانگلش بائیل میں دیباچہ انجیل با ایں الفاظ درج ہے: ” جب تمام چیزوں کا آغاز ہوا تو کلام اس سے پیشتر موجود تھا۔کلام خدا کے ساتھ بسا ہوا تھا اور جو خدا تھا وہ کلام تھا اور اسی کے وسیلے سے تمام چیزیں معرض وجود میں آئیں۔جیمس مافٹ نے ان آیات کا ترجمہ یہ کیا ہے: ابتداء میں کلام تھا۔کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام الوھی صفت تھا وہ ازل سے خدا کے ساتھ تھا۔ساری چیز میں اس کے وسیلے سے پیدا ہوئیں۔“ جے پی فلپ نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے: