حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 251 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 251

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - 251 میں لکھ آئے ہیں۔اب ہم یوحنا کے پیش کردہ الوہی نسب نامے کی حقیقت پر سے پردہ اٹھاتے ہیں۔یوحنا کی ابتدائی آیات کی صحیح حیثیت موجودہ زمانہ میں جب ناقدانہ نظر سے بائیل کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ بہت سے مقامات پر لفظی اور معنوی تحریف واقع ہو چکی ہے چنانچہ مذکورہ آیات میں بھی انجیل کے قدیم اور مستند نسخوں میں اختلاف ہے اور اناجیل کے نئے تراجم کے حواشی میں ان اختلافات کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یوحنا کی ابتدائی آیات میں جس فقرے کا ترجمہ ” کلام خدا تھا“ کیا جاتا ہے وہاں یونانی میں خدا کیلئے لفظ ” تھیو آس“ کے ساتھ حرف تعریف موجود نہیں اور کلام خدا کے ساتھ تھا“ کے فقرے میں حرف تعریف موجود ہے۔گویا یونانی محاورہ کے مطابق ” کلام خدا تھا“ کے فقرے میں خدا تھیو اُس سے مراد خدائے واحد نہیں بلکہ خدا کی طرح مقدس اور بابرکت ہونے کا مفہوم ہے۔پس یہاں کلام کو عین خدا نہیں قرار دیا گیا۔گرامر کے اس فرق کو نئے عہد نامہ کی گرامر کی کتاب نے بیان کیا ہے۔(A manual Grammer of greek, New Testament by Dana & Mantey by Machmillain Co۔1947) چنانچہ نئے عہد نامہ کے نسخہ ویٹی کن میں جو پوپ کی لائبریری میں موجود ہے کلام کو حرف تعریف کے بغیر محض تھیو آس کہا گیا ہے۔سریانی نسخہ انجیل پشیتہ میں کلام خدا تھا کی بجائے خدا کا کلام تھا درج ہے یہ نسخہ پانچویں صدی سے کلیسیاء مشرق کا مستند ترجمہ سمجھا جاتا تھا۔قدیم نسخوں میں دوسرا فقرہ بھی مختلف فیہ ہے عام نسخوں میں ہے کہ یسوع کے وسیلے سے د نیا پیدا ہوئی۔پنج من ولسن نے مندرجہ ذیل ترجمہ دیا ہے: