حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 250
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل باب دہم انجیل یوحنا کی ابتدائی آیات کا صحیح مفہوم 250 یوجنا کی ابتدائی آیات کی بنیاد پر تثلیث اور الوہیت مسیح کامل تیار کیا گیا تھا اور اسی اساس پر ۳۲۵ عیسوی میں ہونے والی عیسائی کونسل میں حضرت مسیح علیہ السلام کو خدائی کا درجہ دیا گیا تھا اور عیسائی مذہب میں شرک کا دروازہ کھول دیا گیا تھا۔عام تراجم میں یوجنا کی انجیل مندرجہ ذیل آیات سے شروع ہوتی ہے: ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔سب چیزیں انہیں کے وسیلے سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اس میں سے کوئی چیز بھی اس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔“ ( یوحنا باب ا آیت اتا۴) ان آیات سے الوہیت مسیح ثابت کرنے والے مفسرین لکھتے ہیں : کہ متی اور لوقا نے خداوند مسیح کا جسمانی نسب نامہ لکھا ہے متی نے ابراہیم تک اور لوقا نے آدم تک مسیح کا نسب نامہ دکھلایا ہے اور یوحنا رسول مسیح کی دوسری ماہیت یعنی الوہیت کا نسب نامہ دکھلاتا ہے۔“ ( تفسیر انجیل یوحنا ملقب به منتها الافکار صفحه ۵ مصنفہ پادری ربرٹ کلارک ایم اے سیکرٹری چرچ مشن سوسائٹی پنجاب وسندھ اور پادری مولوی عما والدین لائیر ڈی ڈی ۱۸۸۸ء) متی اور لوقا کے پیش کردہ مسیح علیہ السلام کے جسمانی نسب ناموں کی حقیقت تو ہم ابتدائی ابواب