حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 245 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 245

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل پھر نوح علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوئے۔ان سے فرمایا: ”دنیا کے سب گھرانے تجھ سے برکت پاوینگے۔“ ( پیدائش باب ۱۲) پھر ابراہیم کے زمانے میں ملک صادق سالیم کو راستی کا بادشاہ لکھا گیا ہے۔نیز فرمایا: 245 ( عبرانیوں باب ۷ آیت ۲) یہ بے باپ بے ماں بے نسب نامہ جس کے نہ دنوں کا شروع نہ زندگی کا آخر مگر خدا کے بیٹے کا مشابہ ٹھہرا کے ہمیشہ کا ہن رہتا ہے۔“ ( عبرانیوں باب ۷ آیت ۲) گویا ملک صادق سالیم جو راستی اور سلامتی کا بادشاہ تھا وہ بے باپ بھی تھا اور بے ماں بھی تھا اور وہ خدا کے بیٹے کا مشابہ تھا۔ایسا شخص تو یقینا سب سزاؤں سے بچا ہوا تھا۔یہاں کوئی عیسائی کہہ سکتا ہے کہ ملک صادق سالیم نے اس لئے نجات پائی کہ وہ بے ماں باپ تھا ورثہ کے گناہ اسے حاصل نہ تھا مگر سوال یہ ہے کہ اگر بے ماں بے باپ مصلحین دنیا کومل چکے تھے تو پھر مسیح کی کیا ضرورت تھی۔اسی طرح اسحاق ، یعقوب ، یوسف ، موسی ، داوڈ سب کی نیکی اور پاکبازی کا اقرار بائیل میں موجود ہے۔اب سوال یہ ہے کہ مسیح سے پہلے اتنے لوگ کفارہ مسیح پر ایمان لائے بغیر نجات پاگئے تو آئیندہ کیوں نجات نہیں پاسکتے جس طرح پہلوں نے نجات پائی ویسے ہی بعد کے لوگ بھی نجات پائیں گے لہذا مسیح کی قربانی یا اسکے کفارہ کی ضرورت نہیں رہتی۔اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام صرف عورت کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے آدم کا گناہ بھی تو ا کی وجہ سے ہوا تھا جو بھی ایک عورت تھی اس سے یہ معلوم ہوا کہ صرف عورت سے پیدا ہونے والا تو کسی طرح بھی ورثہ کے گناہ سے بچ نہیں سکتا اور زیادہ گناہ گار قرار پاتا ہے۔نیز جو برکتیں حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی نسل کو عطا فرمائی گئیں تھیں ان سے بھی حضرت مسیح