حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 241 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 241

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل باب ضمیم کفاره 241 ہمیشہ سے انسان اپنے پیدا کرنے والے خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے جد و جہد کرتا آیا ہے۔جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قرب خداوندی پانے کی لگن انسانی فطرت میں پائی جاتی ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان اپنی سستی یا غفلت یا آسانی کا خواہاں ہونے کی وجہ سے اس مقصد کے حصول کے لئے آسان راستے تلاش کرتا رہتا ہے اور اپنے نفس کو مطمئن کرنے کے لئے بعض خود تراشیدہ دلائل پیش کرنے لگ جاتا ہے۔حضرت موسیٰ نے خطاؤں کے کفارہ کے لئے بکرے کی قربانی کی تعلیم دی تھی۔( گفتی باب ۲۸ آیت (۲۲) اور ساتھ یہ بھی فرمایا تھا کہ اعمال صالحہ جو خدا وند کو پسند ہیں بجالاؤ تاکہ تمہارا بھلا ہو۔(استثناء باب ۶ آیت ۱۸) مگر کفارے کی قربانی کا اثر یہود کی طبیعت پر اتنا گہرا پڑا کہ جب بخت نصر شاہ بابل نے بیت المقدس کو مسمار کر دیا تو چونکہ قربانیاں اسی جگہ ہوتی تھیں انکو ایسا لگا کہ گویا آئیندہ گناہ بخشوانے کا کوئی ذریعہ اب ان کے پاس نہیں رہا۔اور بہت سے لوگ اس وجہ سے تارک الدنیا ہو گئے۔( جیوئش انسائیکلو پیڈیا جلد اول صفحه ۲۸۷ بحوالہ تو سفتا باب ۱۵ آیت۲) (Encyclopedia Judaica Jerusalem by Keter Publishing House Ltd۔1972 - Jerusalem - Israel) اور ایک بڑے عالم جو شا بن حنانیہ نے واویلا کرتے ہوئے کہا: