حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 236 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 236

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل ”انسان کا کام یہ نہیں کہ وہ خدا بن جائے تو پھر اُسے ایسے نمونے کیوں دیئے جاتے ہیں جب کسی کو کوئی نمونہ دیا جاتا ہے تو اس سے نمونہ دینے والے کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ اس نمونہ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کی جائے اور پھر وہ اس شخص کی طاقت میں بھی ہوتا ہے کہ وہ اس نمونہ کے مطابق ترقی کر سکے۔خدا جو فطرت انسانی کا خالق ہے اور اسے انسان کے متعلق پورا علم ہے کہ اس نے انسانی قومی میں یہ مادہ ہی نہیں رکھا کہ خدا بھی بن سکے تو پھر اس نے کیوں ایسی صریح غلطی کھائی کہ جس کام کے کرنے کی طاقت ہی انسان کو نہیں دی اس کام کے کرنے کے واسطے اسے مجبور کیا جاتا۔کیا یہ ظلم صریح نہ ہوگا۔رسالت اور نبوت کے درجہ تک تو انسان ترقی کر سکتا ہے کیونکہ وہ انسانی 236 طاقت میں ہے پس اگر حضرت مسیح خدا تھے تو ان کا آنا ہی لا حاصل ٹھہرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد دہم صفحہ ۲۲۲ ۲۲۳- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) دسویں دلیل۔اگر نظریہ الوہیت کے مطابق تینوں اقانیم Co-eternal, Co-equal ہیں تو زمان و مکان کے لحاظ سے بقول پادری عبد اللہ آتھم صفت بے حدی اور بے نظیری کی طرح ان میں کوئی فرق نہیں تو ایک اقنوم کے باپ اور دوسرے کیلئے بیٹا کہلانے کی کیا وجہ ہے۔باپ اور بیٹا ہونا تو درجہ یا زمانی تاخیر کا متقاضی ہے۔اگر اس قسم کا کوئی تقدم و تأخرنہیں تو کلام الہی میں یہ لغو کام کیوں کیا۔کیا وجہ تخصیص ہے کہ اس کو بیٹے کا نام دیا اور دوسرے کو باپ کا۔کیا اس نام میں تبدیلی کی جاسکتی ہے کیا جس کو اس وقت تک اب کہا جاتا رہا اس کو ابن اور جس کو ابن کہا جاتا رہا ہے اس کو اب کہا جاسکتا ہے اگر نہیں تو کئی وجہ یا صفت ہوگی جس کی وجہ سے ایک کو دوسرے کا نام نہیں دیا جا سکتا۔گویا ایک اقنوم میں ایسی امتیازی صفت ہے اور ان اقانیم میں صفات کی کمی بیشی ہے جو خدا کی ذات میں با اتفاق فریقین نہیں ہو سکتی۔لہذا حضرت مسیح علیہ السلام کوالہ ماننا خلاف عقل فعل ٹھہرتا ہے۔