حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 235
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل ہے۔ایک مشہور پادری مصنف Rev۔E۔R۔Hull اپنی کتاب 235 "What Catholic Church is and What She Teaches" میں لکھتے ہیں : "Most Protestants believe that divinity of Christ is clearly taught in the Bible, yet the Socianians have argued with aparent sincerity that New Testament presents Christ merely as an inspired man" By Catholic Trust Socity 1934 نویں دلیل: حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے رڈ میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ انسانی عقل کے نزدیک ان کا بطور خدا دنیا میں آنا ایک بے معنی اور غیر مفید کام ہے۔پھر اس سے خدا کی حکمت پر بھی زد پڑتی ہے کیونکہ انسانوں کی اصلاح اور ارتقاء کیلئے وہ نمونہ پیش کرنا چاہے جس کی انسان پیروی بھی کر سکیں اور اس کے روحانی مقام تک ترقی کر سکتے ہوں۔انسان کا خدا بننا ناممکن ہے۔اس لئے خدا کا انسانی شکل میں ظہور پذیر ہو کر انسان کیلئے کوئی اسوہ یا نمونہ پیش کرنا انسانوں کیلئے بے کار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو یوں بیان فرمایا ہے کہ : انسان اپنی انسانی حدود اور ہیئت کے اندر ترقی مدارج کرسکتا ہے نہ یہ کہ وہ خدا بھی بن سکتا ہے۔جب انسان خدا بن نہیں سکتا۔تو پھر ایسے نمونے کی کیا ضرورت ہے جس سے انسان فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔انسان کے واسطے ایسے نمونے کی ضرورت ہے جو کہ رسولوں کے رنگ میں ہمیشہ خدا کیطرف سے دنیا میں آیا کرتے ہیں نہ کہ خدائی نمونہ جس کی پیروی انسانی مقدرت سے بھی باہر اور بالاتر ہے۔ہم حیران ہیں کہ کیا خدا کا منشا انسانوں کو خدا بنانے کا تھا کہ ان کے واسطے خدائی کا نمونہ بھیجنا تھا۔“ ( ملفوظات، جلد دہم صفحہ ۲۱۷- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) پھر فرماتے ہیں کہ :