حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 234 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 234

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں: 234 کہ عیسی کی مثال آدم کی مثال ہے۔خدا نے اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو کہا ہو جا سودہ ہو گیا۔ایسا ہی عیسی بن مریم۔مریم کے خون سے اور مریم کی منی سے پیدا ہوا اور پھر خدا نے کہا کہ ہو جا سودہ ہو گیا۔بس اتنی بات میں کونسی خدائی اور کونسی خصوصیت پیدا ہو گئی۔موسم برسات میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں۔انہیں کوئی خدا نہیں ٹھہراتا۔کوئی ان کی پرستش نہیں کرتا کوئی ان کے آگے سر نہیں جھکاتا پھر خوامخواہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اتنا شور کرنا جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟“ (براہین احمدیہ ، حصہ پنجم صفحه ۵۰-۵۱- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعہ الشركة الاسلامیہ ، ربوہ پاکستان ) آٹھویں دلیل: الوہیت مسیح کے رد میں دوسرے زبر دست دلائل کے ساتھ ملا کر یہ بھی ایک قرینہ پیدا ہوا کہ عیسائی لوگوں میں بھی مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے متعلق مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔شروع زمانہ میں میسحیت میں ایسے فرقے پائے جاتے تھے اور اب بھی پائے جاتے ہیں جو ان کو محض ایک انسان اور خدا کا نبی سمجھتے ہیں۔یہ اختلاف اس بات کا قرینہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا مسئلہ کوئی قطعی اور یقینی مسئلہ نہیں ہے اور اذ جاء الاحتمال بطل الاستدلال (جب احتمال پیدا ہو جائے تو استدلال باطل ہو جاتا ہے ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام عیسائیوں کے اس اختلاف کے بارے میں فرماتے ہیں: ایک طرف گھر میں پھوٹ پڑی ہوئی ہے۔ایک صاحب حضرات عیسائیوں دو میں سے تو حضرت مسیح کو خدا ٹھہراتے ہیں اور دوسرا فرقہ ان کی تکذیب کر رہا ہے۔“ جنگ مقدس صفحہ ۱۰۰- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) جس اختلاف کا ذکر آپ نے فرمایا ہے اس کا ثبوت مندرجہ ذیل ایک حوالہ میں بھی مذکور