حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 232
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 232 خدا پیدا ہوا پھر اس پیٹ سے کوئی مخلوق پیدا نہ ہو بلکہ جس قدر بچے پیدا ہوتے جائیں وہ سب خدا ہی ہوں۔تا کہ وہ پاک رحم مخلوق کی شرکت سے منزہ رہے۔اور فقط خداؤں ہی کے پیدا ہونے کی ایک کان ہو۔پس قیاس متذکرہ بالا کی رو سے لازم تھا کہ حضرت مسیح کے دوسرے بھائی اور بہنیں بھی کچھ نہ کچھ خدائی میں سے بحرہ پاتے اور ان پانچوں حضرات کی والدہ تو رب الارباب ہی کہلاتی کیونکہ پانچوں حضرات روحانی وجسمانی قوتوں میں اس سے فیضیاب ہیں۔“ براہین احمد یه صفحه ۴۴۲ حاشیہ نمبر ۱۔روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) چھٹی دلیل : حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے رڈ میں ایک دلیل یہ ہے کہ ان کی الوہیت کا عقیدہ عیسائیوں کے اپنے مسلمات کے خلاف جاتا ہے۔عیسائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح خدا تھے اور مکمل خدائی صفات سے متصف تھے۔اس کے ساتھ وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ باپ اور روح القدس بھی مکمل خدا تھے۔اور یہ سب مل کر ایک خدا بنتا ہے۔جس میں کسی قسم کی کوئی زیادتی یا فضیلت نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر تین وجودوں میں سے ہر ایک وجود کامل خدا ہے اور مکمل خدائی صفات کا مالک ہے۔تو لازمی طور پر ان کے ملنے سے ایک اکمل ترین وجود بننا چاہئے لیکن ایسا خیال مسیحی عقائد کے مطابق باطل ہے۔اب اگر یہ مانا جائے کہ یہ تینوں خدا با ہم ملکر ایک مکمل خدا بنتے ہیں تو پھر ان تینوں وجودوں میں سے ہر ایک کی الوہیت باطل ہو جاتی ہے کیونکہ خدا کا وجود ہر قسم کے نقص یا کمی سے پاک ہے۔پس ان تینوں کامل وجودوں سے باہم مل کر ایک کامل خدا بننے سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ مسیح اپنی ذات میں کامل خدا نہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: حضرات عیسائی صاحبان کا یہ عقیدہ ہے کہ باپ بھی کامل اور بیٹا بھی کامل روح القدس بھی کامل اب جب تینوں کامل ہوئے تو ان تینوں کے ملنے سے اکمل ہونا چاہئے