حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 231 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 231

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل ایک طرف تو یہ پادری لوگ کالجوں اور سکولوں میں فلسفہ اور منطق پڑھاتے ہیں اور دوسری طرف مسیح کو ابن اللہ اور اللہ مانتے ہیں۔انگریزی منطق کی بنا تو منطق استقرائی ہی پر ہے پھر یہ کونسا استقراء ہے کہ یسوع ابن اللہ ہے۔کون سی شکل پیدا کرتے ہوں گے یہی ہوگا کہ مثلاً اس قسم کے خواص جن لوگوں کے اندر ہوں وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہوتے ہیں اور مسیح میں یہ خواص تھے۔پس وہ بھی خدا یا خدا کا بیٹا تھا اس سے تو کثرت لازم آتی ہے۔جو محال مطلق ہے میں تو جب اس پر غور کرتا ہوں تو حیرت بڑھتی ہی جاتی ہے نہیں معلوم یہ لوگ کیوں نہیں سوچتے۔“ 231 ( ملفوظات جلد اول صفحه ۲۷۱- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشرکة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) پس الوہیت مسیح کا عقیدہ فلسفہ اور عقل کے کلی قضیہ کی رو سے باطل ہے۔پانچویں دلیل: الوہیت صیح کے خلاف ایک دلیل یہ ہے کہ ان کی الوہیت قیاس کے خلاف ہے۔اس دلیل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بیان فرمایا ہے اور آپ نے وضاحت فرمائی ہے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا ہو کر خدا ہو سکتے ہیں تو پھر از روئے قیاس حضرت مریم کے باقی بچے بھی خدائی صفات سے متصف ہونے چاہئیں کیونکہ ایک رحم سے ایک ہی نوع کی پیدائش ہوتی ہے یہ بات خلاف قیاس ہے۔کہ حضرت مریم کی اولاد میں سے ایک تو خدا ہوا اور باقی اس اعزاز سے محروم ہوں اور تمام دوسرے انسانوں کی طرح ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : کیا یہ ممکن ہے ایک ہی ماں یعنی مریم کے پیٹ سے پانچ بچے پیدا ہو کر ایک بچہ خدا کا بیٹا بلکہ خدا بن گیا اور چار باقی جور ہے ان بے چاروں کو خدائی سے کچھ بھی حصہ نہ ملا بلکہ قیاس یہ چاہتا ہے کہ جب کسی مخلوق کے پیٹ سے خدا بھی پیدا ہوسکتا ہے۔یہ نہیں کہ ہمیشہ سے آدمی سے آدمی اور گدھی سے گدھا پیدا ہوتو جہاں کہیں کسی عورت کے پیٹ سے