حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 230
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - ذات میں مسلمہ ہے اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ان حاجت مندیوں سے بری نہیں تھے جو تمام انسانوں کو لگی ہوئی ہیں پس مسیح علیہ السلام خدا نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ کھانے پینے 66 کے محتاج تھے۔“ 230 جنگ مقدس صفحہ ۱۔روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) چوتھی دلیل : حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات زندگی اور آپ کی زندگی کے واقعات انا جیل میں کسی قدر تفصیل سے موجود ہیں اور اس کتاب میں بھی ابتدائی تین ابواب آپ کی زندگی کے حالات کے متعلق تحریر کئے گئے ہیں ان حالات کے پڑھنے سے ایک منصف مزاج انسان اندازہ لگا سکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی عام انسانوں کی طرح کی زندگی تھی۔آپ کے کام کوئی خاص نمایاں حیثیت کے حامل نہیں تھے اور نہ آپ کا وجود اور آپ کے ان حالات کو دیکھ کر کوئی عقلمند انسان آپ کو خدا تسلیم کر سکتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک انسان کہ جو غیر معمولی خصوصیت یا برتری بھی نہیں رکھتا اس کو خدا قرار دیا جائے اور اس کے ساتھی جو اسی کی طرح کے ہیں انہیں منصب الوہیت سے محروم کر دیا جائے۔بس از روئے فلسفہ حضرت مسیح علیہ السلام کی خدائی ثابت کرنا محال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: عقلی عقیدے سب کلیت کے رنگ میں ہوتے ہیں کیونکہ قواعد کلیہ سے اُن کا استخراج ہوتا ہے لہذا ایک فلاسفر اگر اس بات کو مان لے کہ یسوع خدا ہے تو چونکہ دلائل کا حکم کلیت کا فائدہ بخشتا ہے، اس کو ماننا پڑتا ہے کہ پہلے بھی ایسے کروڑ باخدا گزرے ہیں اور آگے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ باطل ہے۔“ (کتاب البریہ صفه ۵۳ - روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) نیز فرماتے ہیں: