حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 228
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: 228 وأمه صديقة یعنی حضرت مسیح کی والدہ راستباز تھیں۔یہ بات نہایت ظاہر اور کھلی کھلی ہے کہ قانون قدرت اللہ جل شانہ کا اسی طریق پر واقع ہے کہ ہر ایک جاندار کی اولاد اس کی نوع کے موافق ہوا کرتی ہے مثلاً یہ دیکھو کہ جسقد رجانور ہیں مثلاً انسان گھوڑا اور گدھا اور ہر ایک پرندہ وہ اپنی اپنی نوع کے لحاظ سے وجود پذیر ہوتے ہیں یہ تو نہیں ہوتا کہ انسان کسی پرندہ سے پیدا ہو جائے یا پرندہ کسی انسان کے پیٹ سے نکلے۔“ جنگ مقدس صفحہ ۱۰- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیه، ربوہ پاکستان ) نیز فرمایا: دوسری دلیل اس کی (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی ) عبودیت پر یہ ہے کہ اس کی ماں تھی جس سے وہ پید ہوا اور خدا کی کوئی ماں نہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ، حصہ پنجم صفحه ۳۹۲- روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعہ الشركة الاسلامیہ ، ربوہ پاکستان ) پس ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام کی والدہ کا وجود جس پر سب کا اتفاق ہے ان کے خدا یا خدا کا بیٹا نہ ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔تیسری دلیل : حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے رد میں قرآن کریم نے ایک اور دلیل گانا یا کلانِ الطَّعَام میں بیان فرمائی ہے کہ مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کھانا کھایا کرتے تھے اور یہی بات ان کے خدا نہ ہونے پر دلیل ہے۔اوّل: اسطرح کہ جو کھانا کھائے وہ محتاج ہو گیا اور خدا تعالیٰ ہرقسم کی احتیاج سے پاک ہے۔دوئم: کھانا وہی کھاتا ہے جس کا بدن تحلیل پذیر ہو اور خدا اس سے بلند تر ہے کہ اس میں تحلیل ہونے کی صفت ہو۔