حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 227
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل کے دنیا میں آگئے۔اور اللہ جل شانہ اس دلیل میں صاف توجہ دلاتا ہے کہ تم مسیح سے لیکر انبیاء کے انتہائی سلسلہ تک دیکھ لو جہاں سے سلسلہ نبوت شروع ہوا ہے کہ بجز انسان کے کبھی خدایا خدا کا بیٹا بھی دنیا میں آیا ہے۔“ 227 جنگ مقدس صفحه ۳۲ - روحانی خزائن ایڈیشن اول مطبوعه الشركة الاسلامیہ، ربوہ پاکستان ) پس مسیح علیہ السلام کا مسئلہ تو متنازعہ فیہ ہے اسے پیش نہیں کیا جاسکتا۔کوئی مثال ہے نہیں تو استقرائی طور پر ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام خدا کے بیٹے نہیں ہو سکتے بلکہ دیگر انبیاء اور رسولوں کی طرح ہی ایک نبی اور رسول تھے۔کیونکہ خدا کا یہ طریق اور سنت نہیں کہ اس کے بیٹے ہوں اور وہ انہیں نبوت ورسالت کے لئے بھیجتا ہو۔دوسری دلیل : حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب دعوی الوہیت کے خلاف قرآن کریم آپ کی والدہ کے وجود کو پیش کر کے ایک دلیل دیتا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیان فرمایا ہے آپ کی والدہ کا ہونا امر مسلم ہے خواہ مسلمان ہوں یا عیسائی سب یہ مانتے ہیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ تھیں پس آپ کی والدہ کا وجود ہی آپ کی خدائی کے خلاف ایک بہت بڑی دلیل ہے۔اوّل: اس طرح کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ چونکہ انسان تھیں اس لئے لازما حضرت مسیح علیہ السلام بھی اسی نوع یعنی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں گے۔دوئم: انکی والدہ کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دوسرے وجود کے محتاج تھے اور جو محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔سوئم : جن اشیاء میں توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہوتا ہے وہ بالکتۃ الذات ہوتی ہیں پس جو وجودموت کا شکار ہوسکتا ہے اور عملاً ایسا ہوا بھی ہے تو وہ ہرگز خدا نہیں ہوسکتا۔